مسئلہ:- خواجۂ خواجگان حضور سیدنا سرکار معین الدین حسن چشتی المعروف غریب نواز رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو پیشانی پر کیا لکھا ہوا تھا؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
خواجہ صاحب رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کی نورانی پیشانی پر لکھا تھا : حَبِیْبُ اللہِ مَاتَ فِی حُبِّ اللہِ
یعنی اللہ کا محبوب بندہ ، محبتِ الٰہی میں وِصَال کر گیا-
منقول ہے که شبِ وصال چند اولیاء اللّٰه نے حبیبِ کبریا محمد ﷺ کو خواب میں دیکھا که آپﷺ کسی کے انتظار میں کھڑے ہیں- فرمایا رحمتِ الٰہی کے ہجوم میں آج معین الدین کی روح آنے والی ہے ہم اس کے استقبال کے لیۓ آۓ ہیں-
۶ رجب المرجب ۷۲۶ ہجری ۲۱مئی ۹۲۹ء بروز دو شنبه بعد نمازِ عشاء آپ نے حجرہ شریف کا دروازہ بند کر لیا اور خُدَّام کو اندر آنے کی ممانعت کردی اس لیۓ ساری خُدَّام حجرے کے باہر ہی کھڑے رہے رات بھر کانوں میں طرح طرح کی آواز آتی رہیں پچھلے پہر آواز موقوف ہو گئی جب نماز صبح کا وقت ہوا اور حجرہ شریف کا دروازہ حسب معمول نه کُھلا تو خُدَّام و معتقدین کو سخت تشویش ہوئی دروازہ توڑ کر دیکھا گیا تو آپ واصلِ بحق ہو گیۓ تھے جَبیں مبارک پر قلمِ قدرت سے ھٰذا حَبِیْبُ اللّٰهِ مَاتَ فِی حُبّ ِ اللّٰهِ" لکھا ہوا تھا انا للّٰه وانا الیه راجعون
(بحوالہ ہند کے راجہ صفحہ ۷۸)
واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ
٦ رجب المرجب ۱۴۴۵ ھجری
۱۸ جنوری ۲۰۲۴ عیسوی جمعرات
Tags:
متفرقات