کیا غیبت سننے والا بھی غیبت کرنے والے کے حکم میں ہے؟

مسئلہ:- خالد کہتا ہے غیبت سننے والا بھی غیبت کرنے والے کے حکم میں ہے اور بکر کہتا ہے سننے والا غیبت کے حکم میں ہرگز نہیں آیا یہ کہ کس کا قول درست ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب اللھم ہدایۃ الحق والصواب
صورت مسئولہ میں خالد کا قول درست ہے ۔ غیبت سے بچنے کا طریقہ یہ ہےکہ جس کے سامنے برائی کی جارہی ہے وہاں سے اٹھ جائے یا اس بات کو کاٹ کر کوئی دوسری بات شروع کردے ایسا نہ کرنے میں سننے والا بھی گناہ گار ہوگا، 
بہار شریعت میں ہے : 
جس کے سامنے کسی کی غیبت کی جائے اسے لازم ہے کہ زبان سے انکار کردے مثلاً کہدے کہ میرے سامنے اس کی برائی نہ کرو۔ اگر زبان سے انکار کرنے میں اس کو خوف و اندیشہ ہے تو دل سے اسے برا جانے اور اگر ممکن ہو تو یہ شخص جس کے سامنے برائی کی جارہی ہے وہاں سے اٹھ جائے یا اس بات کو کاٹ کر کوئی دوسری بات شروع کردے ایسا نہ کرنے میں سننے والا بھی گناہ گار ہوگا، غیبت کا سننے والا بھی غیبت کرنے والے کے حکم میں ہے۔ حدیث میں ہے، ’’جس نے اپنے مسلم بھائی کی آبروغیبت سے بچائی، اﷲ تعالیٰ کے ذمۂ کرم پر یہ ہے کہ وہ اسے جہنم سے آزاد کردے۔‘‘ 
بہار شریعت حصہ شانزدہم ۱۶ صفحہ ۵۴۰ ۵۴۱ ) 
والله تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ
۱۸ جمادی الآخر ۱۴۴۵ ھجری
۲ جنوری ۲۰۲۴ عیسوی منگل
Previous Post Next Post