مسئلہ؛- کسی امام کو بہت ساری سورتیں یاد ہوں لیکن ہر جہری نماز میں بس ایک ہی سورت مُعَیّن کرکے پڑھتا ہو تو امام کا ایسا کرنا کیسا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں امام کو ایسا کرنا مکروہ تنزیہی ہے
ہاں اگر امام کو ایک ہی دو سورت یاد ہو یا ایسا ہوتا ہو کہ پڑھتے وقت اکثر بھول جانے کا خدشہ ہو تو پہلے سے سوچ لینا کہ اِس نماز میں یہ سورت تلاوت کروں گا اس میں حرج نہیں کراہت صرف سورت کو معین کرنے میں ہے ،
حاشية الطحطاوي علي مراقي الفلاح ، کتاب الصلوة ، صفحہ ٣٦٣ میں ہے :
و يكره تعيين سورة قيد الطحاوي الكراهة بما إذا اعتقد أن الصلاة لا تجوز بغيرها أما إذا لم يعتقد ذلك فلا كراهة أفاده في الشرح اھ
اور بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ۵٤٨ میں ہے :
سورتوں کا معین کرلینا کہ اس نماز میں ہمیشہ وہی سورت پڑھا کرے، مکروہ ہے، مگر جو سورتیں احادیث میں وارد ہیں ان کو کبھی کبھی پڑھ لینا مستحب ہے، مگر مداومت نہ کرے کہ کوئی واجب نہ گمان کرلے -
والله تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ
۱٦ رجب المرجب ۱۴۴۵ ھجری
۲۸ جنوری ۲۰۲۴ عیسوی یکشنبہ
Tags:
نماز کا بیان