مسئلہ:- کَنڈے یعنی اُپلے اگر جل کر راکھ ہو جائیں تو اس کی راکھ پاک ہے زید کہتا ہے کہ اگرچہ جل کر راکھ ہو جائیں ناپاک ہے آیایہ کہ دونوں میں کس کا قول درست ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
بکر کا قول درست ہے یعنی صورت مسئولہ میں اُپلے کی راکھ پاک ہے :
جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ ٤۹ میں ہے:
وَمِنْهَا) الْإِحْرَاقُ السِّرْقِينُ إذَا أُحْرِقَ حَتَّى صَارَ رَمَادًا فَعِنْدَ مُحَمَّدٍ يُحْكَمُ بِطَهَارَتِهِ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى. هَكَذَا فِي الْخُلَاصَةِ.
گوبر جلایا جاۓ حتی کہ وہ راکھ ہوجاۓ تو امام محمد رحمة اللہ علیہ کےنزدیک وہ راکھ پاک ہوگٸ اور اسی پر فتوی ہے اور یہ خلاصہ میں مذکور ہے
اور بہار شریعت حصہ دوم صفحہ ۳۹٦ میں ہے :
اپلے کی راکھ پاک ہے اور اگر راکھ ہونے سے قبل بجھ گیا تو ناپاک -
والله تعالیٰ اعلم
۱۵ رجب المرجب ۱۴۴۵ ھجری
۲۷ جنوری ۲۰۲۴ عیسوی شنبہ
Tags:
طہارت کا بیان