اعوذ بالله من الشیطان الرجیم قرآن کی آیت ہے یا نہیں؟

مسئلہ:- زید کہتا ہے اغوذ باللہ من الشیطان الرجیم قرآن کی آیت ہے بکر کہتا ہے کہ یہ قرآن کی آیت نہیں تو آیا یہ کہ دونوں میں کس کا قول درست ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
بکر کا قول درست ہے کیونکہ عوذ با للہ من الشیطن الرجیم" قرآن پاک کی آیت نہیں ہے،البتہ حدیث شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کے غصہ کرنے کے وقت ارشادفرمایا:"مجھے ایساکلمہ معلوم ہے کہ اگریہ اسے پڑھ لے تواس کی یہ کیفیت ختم ہوجائے ،یعنی اگروہ یہ پڑھ لے :اعوذ با للہ من الشیطن الرجیم "(صحیح البخاری ،کتاب الادب،باب الحذرمن الغضب،ج۸ ص۲۸،حدیث نمبر:٦۱۱۵،دارطوق النجاۃ)
   نیزقرآن پاک میں فرمایاگیاہے کہ :" تو جب تم قرآن پڑھو تو اللہ کی پناہ مانگو شیطان مردود سے۔"تواس حکم قرآنی پرعمل کرنے کے لیے قرآن پاک کی تلاوت کرتے وقت اعوذباللہ پڑھی جاتی ہے کہ اس کامطلب ہے :"میں اللہ تعالی کی پناہ مانگتاہوں شیطان مردودسے ۔
   قرآن مجید میں ارشادخداوندی ہے :( فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ) ترجمہ کنزالایمان: تو جب تم قرآن پڑھو تو اللہ کی پناہ مانگو شیطان مردود سے۔(سورہ نحل،پ۱٤،آیت ۹۸)
والله تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ
۴رجب المرجب ۱۴۴۵ ھجری
۱۶ جنوری ۲۰۲۳ عیسوی منگل
Previous Post Next Post