زکوۃ موجودہ قیمت کے اعتبار سے نکالے جائیں گے یا جب زیور خریدا تھا اُس وقت کے قیمت کے اعتبار سے؟

مسئلہ:- ہندہ نے گیارہ ماہ پہلے کچھ زیور خریدے تھے تو ان زیوارات پر زکوۃ موجودہ قیمت کے اعتبار نکالے جائیں گے یا جب جتنے میں خریدا تھا اسی اعتبار سے نکالے جائیں گے
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
موجودہ قیمت کے اعتبار سے ان زیوارات کے زکاۃ نکالے جائیں گے 
یعنی صاحب نصاب شخص کے مال زکاۃ پر قمری سال کے اعتبار سے جس دن سال مکمل ہو زکاۃ کی ادائیگی میں اسی دن اور اسی سال کی قیمت کا اعتبار ہوتا ہے خواہ اسی سال ادا کرے یا کسی اور سال ادا کرے - 
فتاویٰ عالمگیری کتاب الزکاۃ جلد اول صفحہ ۱۷۹ میں ہے : 
٫تعتبر القيمة عند حولان الحول .....إذا كان له مائتا قفيز حنطة للتجارة تساوي مائتي درهم فتم الحول ثم زاد السعر أو انتقص فإن ادي من عينها ادي خمسة اقفزة و إن ادي القيمة تعتبر القيمة يوم الوجوب " اھ 
والله تعالیٰ اعلم
۲۴ جمادی الاول ۱۴۴۵ ھجری
9دسمبر2023 عیسوی شنبہ
Previous Post Next Post