مسئلہ:- مسجد میں داڑھی منڈے نے اذان دی تو اذان کے اعادہ کا کیا حکم ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
اذان کہنے والا نیک، پرہیزگار، سنت کو جاننے والا، عزت و وجاہت والا، لوگوں کے احوال کا نگراں اور جو جماعت سے رہ جانے والے ہوں، ان کو زجر کرنے والا ہو، اذان پر مداومت کرتا ہو اور ثواب کیلیے اذان کہتا ہو، جبکہ داڑھی منڈانے والا یا ایک مٹھی سے گھٹانے والا فاسِقِ مُعْلِن ہے، اور فاسقِ معلن کا اذان دینا مکروہِ تنزیہی (یعنی شرعاً ناپسندیدہ) ہے اور اس کی اذان کا اعادہ کرنا مستحب (ثواب) ہے (یعنی اگر فاسقِ معلن اذان دیدے تو اس کی دی گئی اذان کو دہرانا مستحب ہے)، لیکن اذان کو دہرانے میں فتنے کا اندیشہ ہوتو پھر اس کی اذان کو نہ لوٹایا جائے ، الفتنۃُ اشد من القتل) یعنی فتنہ قتل سے بھی سخت ہے،
البتہ جس کی داڑھی قدرتی طور پر ہی ایک مٹھی سے کم ہو، یا ابھی ایک مٹھی سے کم نکلی ہو یا بالکل نہ نکلی ہو تو اس کی اذان بغیر کسی کراہت و ناپسندیدگی کے جائز ہے۔
- چنانچہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
"لیوذن لکم خیارکم"
یعنی چاہیے کہ تمہارے لیے، تم میں سے بہترین لوگ اذان دیں ۔
(سنن ابن ماجہ کتاب الاذان باب فضل الاذان وثواب المؤذنین)
تنویر الابصار مع درمختار میں ہے :
(یکرہ اذان جنب واقامتہ محدث لا اذانہ) علی المذھب (و) اذان (امراۃ) و خنثیٰ (و فاسق) ولو عالما"
یعنی بےغسلے کی اذان اور اقامت (اسی طرح) بےوضو کی اقامت مکروہ ہے نہ کہ اذان (مکروہ ہے) ایک مذہب پر اور عورت، خنثیٰ اور فاسق اگرچہ عالم ہو (ان سب کی اذان بھی مکروہ ہے)۔
جلد دوم صفحہ ۷۵)
اور عمدۃ المحققین علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
"وحاصلہ انہ یصح اذان الفاسق وان لم یحصل بہ الاعلام : ای الاعتماد علی قبول قولہ فی دخول الوقت، بخلاف الکافر و غیر العاقل فلایصح اصلا، فتسویة الشارح بین الکافر و الفاسق غیر مناسبة۔
۔۔۔۔فیعاد اذان الکل ندبا علی الاصح
یعنی اور اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ فاسق کی اذان صحیح ہے اگرچہ اس کے ساتھ اعلام حاصل نہیں ہوگا یعنی وقت کے داخل ہونے میں اس کے قول کو قبول کرنے پر اعتماد (حاصل نہیں ہوگا) بخلاف کافر اور غیرعاقل کی اذان کے پس (ان کی اذان) بالکل صحیح نہیں ہوگی، پس شارح کا کافر اور فاسق کے درمیان برابری کرنا مناسب نہیں۔۔۔۔
پس تمام کی اذان کا اعادہ اصح قول پر مندوب (مستحب) ہے۔
(جلد دوم صفحہ ۷٦، ۷۷ )
محقق جلیل اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں
”فاسق کی اذان اگرچہ اقامتِ شعار کا کام دے مگر اعلام کہ اس کا بڑا کام ہے اس سے حاصل نہیں ہوتا ،نہ فاسق کی اذان پر وقتِ روزہ و نماز میں اعتماد جائز لہذا مندوب (مستحب) ہے کہ اگر فاسق نے اذان دی ہو تو اس پر قناعت نہ کریں بلکہ دوبارہ مسلمان متقی پھر اذان دے۔
(فتاوی رضویہ مترجم جلد ششم صفحہ ۳۷٦،)
والله تعالیٰ اعلم
۲۲ جمادی الاول ۱۴۴۵ ھجری
7دسمبر2023عیسوی پنجشنبہ
Tags:
اذان کا بیان