مسئلہ:-مسجد کا متولی جاہل ہے اس نے نوکر رکھا کہ وہ مسجد کا حساب کتاب کرے گا تو مال وقف سے نوکر کو تنخواہ دینا کیسا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
مال وقف سے نوکر کو تنخواہ دینا جائز نہیں،
علامہ نظام الدین برہان پوری حنفی متوفی ۱۰۹۲ ھ اور جماعت علمائے ہند فرماتے ہیں:
ومتولی المسجد اذا تعذر علیه الحساب بسبب انه امی فاستاجر من یکتب له ذالک بمال المسجد لا یجوز له کذا فی الذخیرۃ "اھ
(فتاویٰ عالمگیری جلد دوم صفحہ ٤٦۱)
اور حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی حنفی متوفی ۱۳۶۷ ھ فرماتے ہیں:
متولی مسجد بے پڑھا شخص ہے اُ س نے حساب کتاب کے لیے ایک شخص کو نوکر رکھا تو مال وقف سے اُس کو تنخواہ دینا جائز نہیں -
(بہار شریعت حصہ دہم صفحہ ۵٦۸)
لہذا مسجد کا متولی نیک صالح امانت دار اور پڑھا لکھا ہونا چاہیے تاکہ کسی نوکر کو رکھنےکی ضرورت ہی نہ پڑے کہ مال وقف سے رقم دینے کی نوبت آئے
واللہ تعالیٰ اعلم
۲۵ جمادی الاول ۱۴۴۵ ھجری
10دسمبر 2023عیسوی یکشنبہ
Tags:
وقف کا بیان