مسئلہ:- کسی مسلمان کو مندر کے اندر جانا کیسا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب
مسلمان کو مندر میں جانا مکروہ تحریمی وگناہ ھے اسلئے کہ مندر مجمع شیاطین ھے
ردالمحتار میں ہے:
فی التتارخانیۃ یکرہ للمسلم الدخول فی البیعۃ والکنیسۃ حیث انہ مجمع الشیاطین قال فی البحر الظاھر انہا تحریمۃ لانہا المرادۃ عند اطلاقہم اھ)
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے
کسی مسلمانوں کو یہودیوں، عیسائیوں کے گرجوں میں جانا مکروہ ہے اس لئے کہ وہ شیطانوں کے جمع ہونے کے مکانات ہیں، بحرالرائق میں فرمایا ظاہر یہ ہے کہ یہاں کراہت سے کراہۃ تحریمی مرا دہے کیونکہ اطلاق کے وقت یہی مراد ہواکرتی ہے اھ.
مطلب فی الصلاۃ تکرہ الکنیسۃ، جلد دوم صفحہ ٤۳ دار عالم الکتب)
فتاوی رضویہ میں ہے
مندر ماوائے شیاطین ہے۔ اس میں مسلمانوں کو جانا منع ہے۔
(جلد ۲۱ صفحہ ۲۷۲)
اور اگر مندر میں اس اعتقاد سے گیا کہ وہ نافع ہے وہاں بگڑے ہوئے کام بن جاتےہیں تو ایسی صورت میں اُس مسلمان پر توبہ تجدید ایمان فرض ہے بیوی والا ہے تجدید نکاح بھی
ایساہی فتاوی شارح بخاری جلد دوم صفحہ ٦۱۹ میں ہے :
والله تعالیٰ اعلم
۲۰ جمادی الاول ۱۴۴۵ ھجری
5دسمبر2023 عیسوی سہ شنبہ
Tags:
عقائد کا بیان