جس پر حج فرض ہو اور اس نے نہ کیا ہو اسے حج بدل کے لیے بھیجنا کیسا ہے؟

مسئلہ:- خالد پر حج فرض ہے اس نے ادا نہیں کیا ہے تو بکر نے خالد کو حج بدل کے لیے بھیجا تو آیا یہ کہ بکر کو حج بدل کے لیے بھیجنا کیسا ہے اور حج ہوجائے گا یا نہیں ؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں خالد کو حج کےلئے بھیجنا مکروہ تحریمی ہے البتہ حج ادا ہوجائے گا
قال فی الفتح والبحر: والحق أنہا تنزیہیة للاٰمر لقولہم: والأفضل إحجاج الحر العالم بالمناسک الذی حج عن نفسہ حجة الإسلام تحریمیة علی الصرورة المامور إن کان بعد تحقق الوجوب علیہ بملک الزاد والراحلة والصحة؛ لأنہ یتضیق علیہ والحالة ہٰذہ فی أول سنی الإمکان فیأثم بترکہ۔ وکذا فی کافی أبی الفضل: قال: إن کان بعد تحقق الوجوب علیہ بملک الزاد والراحلة والصحة فہو مکروہ کراہة تحریم۔ (غنیة الناسک / باب الحج عن الغیر) 
اور بہار شریعت میں ہے : 
بہتر یہ ہے کہ حج بدل کے لیے ایسا شخص بھیجا جائے جو خود حجۃ الاسلام (حجِ فرض) ادا کرچکا ہو اور اگر ایسے کوبھیجا جس نے خود نہیں کیا ہے، جب بھی حجِ بدل ہو جائے گا۔ اور اگر خود اس پر حج فرض ہو اور ادانہ کیا ہو تو اسے بھیجنا مکروہِ تحریمی ہے۔ 
(حصہ ششم حج بدل کے شرائط) 
اور فتاویٰ ہندیہ جلداول میں ہے : 
والأفضل للانسان اذا أراد أن یحج رجلا عن نفسہ أن یحج رجلا قد حج عن نفسہ و مع ھذا لو أحج رجلا لم یحج عن نفسہ حجۃ الاسلام یجوز عندنا و سقط الحج عن الآمر کذا فی المحیط " اھ
(الباب الرابع عشر فی الحج عن الغیر / بیروت)
والله تعالیٰ اعلم
۹ جمادی الآخر ۱۴۴۵ ھجری
23دسمبر 2023 عیسوی شنبہ
Previous Post Next Post