مسئلہ:- مقتدیوں کو خطبہ کی اذان کا جواب زبان سے دینا کیسا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
مقتدیوں کو خطبہ کی اذان کا جواب ہرگز نہیں چاہئے یہی احوط ہے اسلئے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنھم امام کے خطبہ کے لئے نکلنے کے بعد نماز و کلام کو مکروہ سمجھتے تھے.
ردالمحتار میں ہے "ﻭﺃﺧﺮﺝ اﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺷﻴﺒﺔ ﻓﻲ ﻣﺼﻨﻔﻪ ﻋﻦ ﻋﻠﻲ ﻭاﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻭاﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻋﻨﻬﻢ ﻛﺎﻧﻮا ﻳﻜﺮﻫﻮﻥ اﻟﺼﻼﺓ ﻭاﻟﻜﻼﻡ ﺑﻌﺪ ﺧﺮﻭﺝ اﻹﻣﺎﻡ واﻟﺤﺎﺻﻞ ﺃﻥ ﻗﻮﻝ اﻟﺼﺤﺎﺑﻲ ﺣﺠﺔ ﻳﺠﺐ ﺗﻘﻠﻴﺪﻩ ﻋﻨﺪﻧﺎ ﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﻨﻔﻪ شیء ﺁﺧﺮ ﻣﻦ اﻟﺴﻨﺔ"(ج٣،ص٣٨).
ہاں اگر اذان کا جواب اوراسی طرح دونوں خطبوں کے درمیان دعا دل میں کرے تو کوئی حرج نہیں اور اگر امام زبان سے جواب دے یا دعا کرے تو جائز ہے.
در مختار میں ہے"اذا خرج الامام من الھجرۃ ان کان والا فقیامہ للصعود فلا صلوۃ ولا کلام الی تمامھا"(ردالمحتار،ج٣،ص٣٨).
نیز ردالمحتار میں ہے "اجابۃ الاذان حینئذ مکروہۃ" یعنی اذان کا جواب اس وقت مکروہ ہے۔(ج٣،ص٤١).
در مختار میں ہے "و ینبغی ان لا یجیب بلسانہ اتفاقا فی الاذان بین یدی الخطیب" یعنی اس بارے میں اتفاق ہے کہ خطیب کے سامنے والی اذان کا جواب(مقتدی کو) زبان سے نہیں دینا چاہئے (ردالمحتار،ج١،ص٨٧).
فتاوی رضویہ میں اسی کے مثل سوال کے جواب میں ہے "ہرگز نہ چاہئے یہی احوط ہے"(ج٨، ص٣٠٠)
والله تعالیٰ اعلم
٦ جمادی الآخر ۱۴۴۵ ھجری
۲۰ دسمبر ۲۰۲۳ عیسوی چہار شنبہ
Tags:
جمعہ کا بیان