غیر مسلم کسی مسلمان کو اپنے پیسے سے عمرہ پہ بھیجے تو جانا کیسا ہے؟

مسئلہ:-اگر کوئی غیر مسلم کسی مسلمان کو بخوشی اپنے پیسے سے عمرہ کروائے تو اس، پیسے سے عمرہ کرنا کیسا ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
 صورت مسئولہ میں عمرہ کرنے جانا جائز ودرست ہے شرعاً کوئی قباحت نہیں کیوں کہ اُس نے اپنی خوشی سے پیسے دیا اور غیر مسلم اپنی خوشی سے پیسے دے تو اُس کا لینا شرعا جائز ہے ھدایہ میں ہے کہ " ان مالھم مباح … فبای طریق اخذہ المسلم اخذ مالا مباحا اذ لم یکن منه غدر " اھ یعنی کفار کا مال مباح ہےلہذا ان کا مال سوائے دھوکہ کے جس طریقے سے بھی مسلمان نے لے لیا مباح مال لیا " اھ ( ھدایہ جلد دوم صفحہ ۸۷ کتاب البیوع ، باب الربا ) اور رد المحتار میں ہے کہ " لا باس بان یاخذ اموالهم بطیب انفسهم بأى وجه کان لانه انما اخذ المباح علی وجه عری عن الغدر فیکون طیبا له " اھ یعنی حربی کافروں کا مال ان کی خوشی سے جس طرح چاہے لے کوئی حرج نہیں اس لئے کہ اس نے مال مباح ایسے طریقے سے حاصل کیا ہے جس میں دھوکہ نہیں ہے تو یہ اس کے لئے مباح ہے " اھ ( رد المحتار جلد پنجم صفحہ ۱۸٦ ) اور فتاوی رضویہ میں ہے کہ " جو مال غیر مسلم سے کہ نہ ذمی ہو نہ مستامن بغیر اپنی طرف سے کسی غدر اور بد عہدی کے ملے اسے لینا جائز ہے اگرچہ وہ دینے والا کچھ کہے یا سمجھے کہ اس کے لئے اس کی نیت بہتر ہے نہ کہ دوسرے کی " اھ ( فتاوی رضویہ جلد ہفدہم صفحہ ۳٤۸ رضا فاؤنڈیشن لاہور ) اور اسی میں ہے کہ " کافر غیر ذمی کا مال بلا غدر جو حاصل ہو وہ مال مال مباح سمجھ کر لینا حلال ہے اھ ( فتاوی رضویہ جلد ہفدہم صفحہ ۳٤۱ رضا فاؤنڈیشن لاہور ) 
والله تعالیٰ اعلم
۲ جمادی الآخر ۱۴۴۵ ھجری
17دسمبر 2023عیسوی یکشنبہ
Previous Post Next Post