شدت سے پاخانہ پیشاب یا ریح خارج ہونے کا اندیشہ ہو تو نماز پڑھنا کیسا ہے؟

مسئلہ:- اگر کسی کو شدت کا پاخانہ پیشاب کی حاجت ہو یا ریح خارج ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔ 
جیسا کہ در مختار میں ہے 
" و صلاتہ مع مدافعۃ الأخبثین أو احدھما أو لریح للنھی " اھ
اور ردالمحتار میں ہے 
 ( وصلاتہ مع مدافعۃ الأخبثین الخ) أی البول والغائط قال فی الخزائن سواء کان بعد شروعہ أو قبلہ فان شغلہ قطعھا ان لم یخف فوت الوقت و ان اتمھا اثم لما رواہ ابو داؤد "
لایحل لأحد یؤمن باللہ والیوم الآخر أن یصلی و ھو حاقن حتیٰ یتخفف أی مدافع البول و مثلہ الحاقب أی مدافع الغائط والحازق أی مدافعھما و قیل مدافع الریح وما ذکرہ من الاثم صرح بہ فی شرح المنیۃ وقال لادائھا مع الکراھۃ التحریمۃ " اھ
( در مختار مع ردالمحتار کتاب الصلاۃ / باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا) 
اور فتاوی ھندیہ میں ہے 
" ان یدخل فی الصلاۃ و ھو یدافع الأخبثین و ان شغلہ قطعھا و کذا الریح و ان مضیٰ علیھا أجزاہ و قد أساء " اھ
(الفصل الثانی فیما یکرہ فی الصلاۃ وما لا یکرہ) 
 اور حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں 
" شدت کا پاخانہ پیشاب معلوم ہوتے وقت یا غلبۂ ریاح کے وقت نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے حدیث میں ہے " جب جماعت قائم کی جائے اور کسی کو بیت الخلاء جانا تو پہلے بیت الخلاء جائے " اس حدیث کو ترمذی نے عبداللہ بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا اور ابو داؤد و نسائی و مالک نے بھی اس کے مثل روایت کی ہے- 
( بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ٦۲۵ / مکروہات کا بیان ) 
والله تعالیٰ اعلم
۲۹ جمادی الاول ۱۴۴۵ ھجری
14 دسمبر 2023 عیسوی پنجشنبہ
Previous Post Next Post