مسئلہ:- زید کہتا ہے کتب فقہ واحادیث بھی چھونے کے لیے وضو کرنا فرض ہےبکر کہتا ہے واجب ہے خالد کہتا ہے مباح ہے عمرو کہتا ہے مستحب ہے آیا یہ کہ اس میں کس کا قول معتبر ہے۔؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں عمرو کا قول درست ہے کیوں کہ کتب فقہ واحادیث چھونے کے لیے وضو فرض واجب نہیں بلکہ مستحب ہے ہاں یہ خیال رہے جہاں قرآن کی ایک آیت بھی لکھی ہو اسکو چھونےلیے وضوء کرنا فرض ہے البتہ بغیر چھوئے پڑھ سکتے ہیں،
طحطاوی علی مراقی الفلاح صفحہ ۸۵ میں ہے:
" (الوضوء مندوب) دراسة علم ای شرعی اھ
اور بہار شریعت حصہ دوم صفحہ ۳۰۲ میں ہے؛
حدیث اور علم دین پڑھنے پڑھانے کےلیے وضوء کرنا مستحب ہے؛
والله تعالیٰ اعلم
۲۲ ربیع الثانی ۱۴۴۵ ھجری
7نومبر 2023 عیسوی سہ شنبہ
Tags:
وضو کا بیان