عورت کا رحم (بچے دانی) نکلوادیا گیا حیض نہیں آتا ہے تو اس کی عدّتِ طلاق کتنی ہوگی

مسئلہ:- جس عورت کا رحم ( بچے دانی) نکلوا دیا گیا ہو اس عورت کو حیض نہ آتا ہو تو اس کی عدت طلاق کتنی ہوگی؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں عدت تین ماہ ہے 
 یعنی جس عورت کا رحم یعنی بچہ دانی کسی مرض وغیرہ کی وجہ سے نکلوا دی گئی ہو اور اب اس کا حیض آنا منقطع ہوگیا ہو تو وہ آئسہ کے حکم میں ہوگئی یعنی اب اس کی عدت مہینوں سے شمار کی جائے گی کیونکہ اب اس کے حیض آنے کی کوئی امید نہ رہی چونکہ حیض کا خون رحم سے ہی آتا ہے اور اب وہ ہے ہی نہیں اس لئے وہ عورت اب اپنی عدت مہینوں سے گزارے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ " وَاللّٰآئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ اَشْهُرٍ " اھ یعنی اور تمہاری عورتوں میں جنہیں حیض کی امید نہ رہی ، اگر تمہیں کچھ شک ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے " اھ ( پ ۲۸سورہ طلاق آیت ٤) اور در مختار میں ہے: " فى من لم تحض اصغر او كبر او بلغت بالسن و لم تحض اشهر " اھ ( در مختار جلد پنجم صفحہ ۱۸٤ تا ۱۸۷ ) اور رد المحتار میں ہے کہ " و قال فى البحر عن التاتر خانية بلغت فرأت يوما دما ثم انقطع حتى مضت سنة طلقها فعدتها بالاشهر " اھ ( رد المحتار جلد سوم صفحہ ۵۰۸ ) اور فتاوی خانیہ میں ہے کہ" ولو کانت المطلقة صغیرۃ أو آئسة وهي حرۃ فعدتها ثلاثة أشهر " اھ ( فتاوى خانیہ جلد اول صفحہ ۵٤۹ ) اور مجمع الانھر میں ہے کہ " و إن کانت لا تحیض لکبر أو صغر أو بلغت بالسن و لم یحض فعدتها ثلاثة أشهر بالأیام إن وطئت حقیقة أو حکمًا " اھ (مجمع الانهر جلد دوم صفحہ ۱٤۳ ) 
والله تعالیٰ اعلم
۱ جمادی الاول ۱۴۴۵ ھجری
16نومبر 2023 عیسوی پنجشنبہ
Previous Post Next Post