مسئلہ:- اگر کسی نے کسی عورت سے یہ ارادہ کیا کہ صرف سو سال تک کے لیے نکاح کررہا ہوں تو نکاح صحیح ہوا یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں نکاح نہیں ہوا کہ کیوں کہ ارادہ ہو کہ صرف اتنے دن کے لیے نکاح کررہا ہوں تو نکاح نہیں ہوگا اگرچہ دو سو برس متعین کرلیا گیا ہو،
فتح القدیر میں ہے :
" أما لو تزوج و فی نيته أن يطلقها بعد مدة نواها صح " اھ
( فتح القدیر ج 3 ص 152 )
اور در مختار میں ہے :
" ( و بطل نكاح متعة و مؤقت ) و ان جهلت المدة او طالت فى الاصح ، و ليس منه ما لو نكحها على ان يطلقها بعد شهر او نوى مكثه معها مدة معينة ، ولا باس يتزوج النهاريات " اھ
( در مختار ج 4 ص 143 : کتاب النکاح ، مطلب فیما لو زوج المولی و امته ، دار الکتب العلمیہ بیروت )
اور بہار شریعت میں ہے :
" متعہ حرام ہے یوہیں اگر کسی خاص وقت تک کے لئے نکاح کیا تو یہ نکاح بھی نہ ہوا اگرچہ دو سو ۲۰۰ برس کے لئے کرے -
( بہار شریعت ج 2 ص 35 : محرمات کا بیان )
والله تعالیٰ اعلم
۲۰ ربیع الثانی ۱۴۴۵ ھجری
4 نومبر 2023 عیسوی یکشنبہ
Tags:
نکاح کا بیان