جمعہ میں کتنی رکعیں سنت مؤکدہ ہیں؟

مسئلہ:- زید کہتا ہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد پورے چھ رکعت سنت مؤکدہ ہیں بکر کہتا ہے صرف چار رکعت سنت موکدہ ہیں کس کا قول درست ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
جمعہ کے بعد سنتوں کے بارے میں فقہاء کرام کا اختلاف ہے اس لیے پورے چھ رکعت یا صرف چار ہی رکعت نہیں کہہ سکتے ہیں۔ 
امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ چار کے قائل ہیں ، 
 چنانچہ علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ الرحمہ فرماتےہیں
” وسن مؤکدا اربع قبل الظہر واربع قبل الجمعة واربع بعدھا بتسلیمة “
(الدرالمختار صفحہ ٩١ ، دارالکتب العلمیۃ) 
البتہ امام ابویوسف رضی اللہ عنہ کے نزدیک چار رکعت پہلے اور چھ رکعت بعد میں سنت مؤکدہ ہیں
علامہ سید احمدطحطاوی علیہ الرحمہ فرماتےہیں
” وقال ابویوسف : یصلی بعدالجمعة ستا سنة “
(حاشیۃ الطحطاوی علی الدر جلد دوم صفحہ ٤٠٦ ، دارالکتب العلمیۃ) 
جمعہ کے بعد چار رکعت سنت کے معاملے میں امام محمدرضی اللہ تعالیٰ عنہ امام اعظم کے ساتھ ہیں لیکن امام ابو یوسف فرماتے ہیں چھ رکعتیں سنت موکدہ ہیں 
چنانچہ علامہ ابوبکر بن علی حدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
” واربعا قبل الجمعۃ واربعا بعدھا وھذا عندھما وقال ابویوسف اربعا قبلھا وستا بعدھا “
(الجوھرةالنیرة جلد اول صفحہ ۸۵ مکتبہ حقانیہ  ) 
معلوم ہوا کہ جمعہ کے بعد کی سنتوں میں اختلاف ضرور ہے 
اسی لیے اختلافِ علماء کی رعایت کرتے ہوئے وہ دو رکعت بھی پڑھ لینا چاہیے، 
والله تعالیٰ اعلم
۷جمادی الاول ۱۴۴۵ ھجری
22 نومبر 2023 عیسوی چہار شنبہ
Previous Post Next Post