انسانوں کو گواہ نا بنا کر الله و رسول کو گواہ بنا کر نکاح کیا تو نکاح منعقد ہوا یا نہیں؟

مسئلہ:- زید اور ہندہ دونوں بالغ ہیں اور دونوں نے ایسی صورت میں نکاح کیا کہ کوئی گواہ نہ تھا تو اللہ ورسول کو گواہ بنا کر آپس میں نکاح کرلیا تو نکاح صحیح ہوا یا نہیں؟
 بسم الله الرحمن الرحیم
 الجواب بعون الملک الوھاب 
صورت مسئولہ میں نکاح صحیح نہیں ہوا کیونکہ 
نکاح منعقد ہونے کیلٸے دوآزاد مکلف مرد یا ایک مرد دوعورت کا گواہ ہونا اور اسکا سنا شرط ہے 

جیسا کہ در مختار جلد چہارم صفحہ ۸۷ میں ہے 
و شرط حضور شاھدین و حرین او حر حرتین مکلفین سامعین قولھما معا علی الاصح " اھ

الجوھرۃ النیرۃ جلد دوم صفحہ ۱۰۷ میں ہے:  ولا ینعقد نکاح المسلمین الا بحضور شاھدین حرین مسلمین بالغین عاقلین او رجل وامرأتین " اھ

معلوم ہوا کہ نکاح منعقد ہونے کے لیے گواہ شرط ہے اور جب شرط فوت ہوجائے تو مشروط بھی فوت ہو جاتے ہیں 
شرط کا قاعدہ کلیہ یہ ہے 
اذافات الشرط فات المشروط ، 
 اور اسی طرح اگر کوٸی اللہ اور اسکے رسول کو گواہ بناکر انسانی گواہ کے بغیر آپس میں ایجاب و قبول کرنا چاہے یا کرلے تو اس طرح نکاح درست نہیں ہوتا ہے ۔ 
جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے 
من تزوج امراة بشھادة اللہ و رسولہ لایصح النکاح " اھ 
والله تعالیٰ اعلم
۱۵ جمادی الاول ۱۴۴۵ ھجری
30 نومبر 2023 عیسوی پنجشنبہ
Previous Post Next Post