امام کو قومہ میں ربنا ولک الحمد کہنا چاہیے یا نہیں؟

مسئلہ:- نماز میں رکوع سے اٹھنے کے بعد یعنی قومہ میں امام کو سمع الله لمن حمدہ کے بعد ربنا ولک الحمد کہنا چاہیے یا نہیں؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب 
دریں مسئلہ مختلف فیہ است
یعنی یہ اختلافی مسئلہ ہے 
 کیوں کہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک امام رکوع سے اٹھتے ہوئے صرف تسمیع یعنی ، سَمِعَ اللّٰه لمَن حَمِدَہ ، کہنے پر اکتفا کرے گا ، تحمید یعنی ، رَبَّنَا لَك الحمد ، نہ کہے گا ، یہی قول متون کا ہے ، اسی پر فتوی بھی ہے ۔ جب کہ صاحبین ( امام ابو یوسف و امام محمد) رحمهما الله اور امام صاحب کی ایک روایت یہ ہے کہ امام ، سمع الله لمن حمدہ ، کہنے کے بعد ،ربنا لك الحمد ، بھی کہے یہ افضل اور مستحب ہے ، اور متاخرین میں سے بہت سے مشائخ نے اس کو راجح قرار دیا ہے ، یہ اختلاف صرف افضلیت میں ہے جیسا کہ در مختار مع رد المحتار میں ہے کہ " ( ثم يرفع رأسه من ركوعه مسمعاً ) فی الولوالجية لو أبدل النون لا ما يفسد و هل يقف بجزم أو تحريك ؟ قولان ( و يكتفی به الإمام ) و قالا : يضم التحميد سراً ( و ) يكتفي ( بالتحميد المؤتم ) و أفضله : اللهم ربنا و لك الحمد ثم حذف الواو ، ثم حذف اللهم فقط " اھ رد المحتار میں ہے کہ " ( قوله : و قالا : يضم التحميد ) هو رواية عن الإمام أيضاً ، و إليه مال الفضلي و الطحاوي و جماعة من المتأخرين ، معراج عن الظهيرية . و اختاره فی الحاوی القدسی ، و مشى عليه فی نور الإيضاح ، لكن المتون على قول الإمام ، اھ 
( در مختار مع رد المحتار جلد دوم صفحہ ۲۰۱ : کتاب الصلاۃ ، باب صفۃ الصلاۃ ،) اور طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے کہ ، فیجمع بین التسمیع و التحمید لو کان إماماً هذا قولهما وهو روایة عن الإمام اختارها الحاوى القدسى و کان الفضلى و الطحاوى و جماعة من المتأخرین یمیلون إلی الجمع ، 
( طحطاوی علی المراقی الفلاح صفحہ ۱۵۴ ) اور فتاوی عالمگیری میں ہے کہ ، فإن كان إماماً يقول: سمع الله لمن حمده بالإجماع، وإن كان مقتدياً يأتي بالتحميد ولايأتي بالتسميع بلا خلاف، وإن كان منفرداً الأصح أنه يأتي بهما، كذا في المحيط. وعليه الاعتماد، كذا في التتارخانية وهو الأصح " اھ 
( فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ ۷٥ ) اور بہار شریعت میں ہے کہ ،  رکوع سے اٹھنے میں امام کے لئے ، سَمِعَ اللّٰه لِمَنْ حَمِدَہ ، کہنا اور مقتدی کے لئے ، اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَلَك الْحَمْد ، کہنا اور منفرد کو دونوں کہنا سنت ہے - 
( بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ۵۲۷ سنن نماز )
لہذا امام کو صرف سمع الله لمن حمدہ کہنا سنت ہے اور ربنا ولک الحمد بھی کہنا مستحب ہے جیسا کہ رکوع سجدے میں ہے کہ تین بار تسبیح کہنا سنت ہے کہ پانچ بار تسبیح کہنا مستحب ہے  تو مستحب کی ادائیگی میں سنت مستحب دونوں کی ادائیگی ہوجائے گی البتہ مذکور مسئلہ میں اختلاف ضرور ہے جو مذکورہ بالا عبارات سے عیاں ہے  
والله تعالیٰ اعلم
۱۴ جمادی الاول ۱۴۴۵ ھجری
29 نومبر 2023 عیسوی چہار شنبہ
Previous Post Next Post