ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کا ثبوت

مسئلہ:- زید سنن بیہقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ نماز میں ہاتھ سینے پر باندھنا چاہیے اور بکر بھی اسی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ہاتھ ناف کے نیچے باندھنا چاہیے آیا یہ کہ دونوں میں کس کا قول درست ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
بکر کا قول درست ہے, 
[عن النعمان بن سعد:] عن عليٍّ رضيَ اللَّهُ عنهُ أنَّهُ كانَ يقولُ: إنَّ مِن سنَّةِ الصَّلاةِ وضعُ اليَمينِ على الشِّمالِ تحتَ السُّرَّةِ۔(البيهقي (٤٥٨ هـ)، السنن الكبرى للبيهقي ٢/٣١)
"حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے تھے: نماز کی سنت سے یہ ہے کہ داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھا جائے۔ 

 عن علی رضی الله عنه قال ان من السنة فی الصلة وضع الأکف علی الأکف تحت السرة.
"حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نماز میں سنت یہ ہے کہ ہتھیلیوں کو ہتھیلیوں پر ناف کے نیچے رکھا جائے۔
(أحمد بن حنبل، المسند، ۱ ۱۱۰، رقم ۸۷۵) 

 عن أبی جحيفة ان علي رضی الله عنه قال السنة وضع الکف علی الکف فی الصلة تحت السرة.

'ابو جحیفۃ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا نماز میں ایک ہتھیلی کا دوسری پر ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے۔
(أبو داؤد، السنن، ۱ : ۲۰۱، رقم : ۷۵۶) 
  عن ابرهيم قال يضع يمينه علی شماله فی الصلة تحت السرة.
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر ناف کے نیچے رکھے۔

(أن أبی شيبه، المصنف، ۱ : ۳۴۳ ، رقم : ۳۹۳۹) 

. عن علی قال من سنة الصلاة وضع لأيدی علی الأيدی تحت السرر.

'حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز میں ہاتھوں پر ہاتھ نافوں کے نیچے رکھنا سنت ہے۔
(ابن ابی شيبه، المصنف، ۱: ۳۴۳، رقم : ۳۹۴۵) 
 اور یوں ہی مذکورہ بالا دلائل کے علاوہ بھی بہت ساری روایات موجود ہیں۔ اور یاد رہے اسی طرح ناف کے اوپر ہاتھ باندھنے کے بارے میں بھی روایات موجود ہیں، لیکن ناف سے نیچے ہاتھ باندھنے والی زیادہ قوی ہیں۔
 اور ان میں تطبیق یہ ہے کہ نماز فرض ہونے کے فورا بعد ہی صحابہ کرام پر سختی نہیں کی گئی تھی کہ خاموشی کے ساتھ کھڑے ہونا، ادھر ادھر نہیں دیکھنا یا ہاتھ اسی طرح ہی باندھنا ہیں بلکہ یہ تمام طریقے آہستہ آہستہ عمل میں لائے گئے اور جس طریقہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری دور میں نماز پڑھی اس کو زیادہ ترجیح دی جائے گی ورنہ تو جس طرح بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ادا فرمائی وہی سنت ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایسا اہتمام فرما دیا ہے کہ حضور نبئ کریم ﷺ کی تمام سنتیں زندہ ہیں۔ اور یاد رہے جو ناف کے اوپر ہاتھ باندھتے ہیں انھیں ہم برا نہیں کہہ سکتے کیونکہ چاروں مسلک میں صرف فروعی مسائل کے اختلاف ہیں عقیدہ سب کا ایک ہی ہے، 
والله تعالیٰ اعلم
۱۳ جمادی الاول ۱۴۴۵ ھجری
28نومبر 2023 عیسوی سہ شنبہ
Previous Post Next Post