سجدۂ تلاوت میں تاخیر کرنا کیسا ہے؟


 مسئلہ:- خالد وضو کرکے بیرون نماز قرآن کی تلاوت کررہا تھا آیت سجدہ پر اس نے فوراً سجدہ نہیں کیا آیا یہ کہ بیرون نماز آیت سجدہ میں تاخیر کرنا کیسا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب   
 اگر آیت سجدہ نماز میں پڑھی تو فورا سجدہ کرنا واجب ہے تاخیر کرے گا تو گنہ گار ہوگا اور اگر بیرون نماز پڑھی تو فورا ادا کرنا واجب نہیں، ہاں بہتر یہ ہے کہ فورا کر لے اور اگر وضو ہو تو تاخیر کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔ در مختار میں ہے:
(وَهِيَ عَلَى التَّرَاخِي) عَلَى الْمُخْتَارِ وَيُكْرَهُ تَأْخِيرُهَا تَنْزِيهًا...(إنْ لَمْ تَكُنْ صَلَوِيَّةً) فَعَلَى الْفَوْرِ لِصَيْرُورَتِهَا جُزْءًا مِنْهَاوَيَأْثَمُ بِتَأْخِيرِهَا۔( ملخصا من الدر المختار، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ،) 
ترجمہ: آیت سجدہ اگر بیرون نماز ہو تو مختار مذہب پر فورا ادا کرنا واجب نہیں البتہ تاخیر مکروہ تنزیہی ہے اور اگر نماز میں آیت سجدہ پڑھی تو نماز کا جز ہونے کی وجہ سے فورا واجب ہے، تاخیر کی صورت میں گنہگار ہوگا۔
لہذا بیرون نماز تلاوت کی صورت میں تاخیر جائز ہے اور اس کی کوئی حد نہیں لیکن اتنی تاخیر کرنا کہ سجدہ کرنا بھول جائے، جائز نہیں-
والله تعالیٰ اعلم
۱۲ جمادی الاول ۱۴۴۵ ھجری
27 نومبر2023 عیسوی دوشنبہ
Previous Post Next Post