منت مان کر کام پورا ہونے سے پہلے کوئی تبدیل کرنا چاہے تو ہوسکتا ہے یا نہیں؟

مسئلہ:- خالد نے منت مانی کہ میرا فلاں کام ہوجائے تو بیس روزے رکھوں گا تو ابھی کام ہوا نہیں تو کیا خالد اپنی منت کو بدل سکتا ہے یعنی پندرہ روزے کی منت مقرر کر سکتا ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
منت بدلنے کی اجازت نہیں اس لیے مقرر نہیں کرسکتا  کیونکہ منت ان معاملات میں سے ہے جن کے لیے تلفّظ ضروری ہے،محض سوچنے سے منت نہیں ہوگی،لہذا اگر کسی نے اتنی آواز سے منت مانی کہ بغیر خلل کے خود سن لے، تو منت ہو گئی،اور جس وقت منت کے الفاظ کہے جارہے ہیں انشاء یا استثناء کے الفاظ نہ ہوں، تو منت لازم ہو جاتی ہے اس کو واپس نہیں لیا جاسکتا۔ بعد میں منت تبدیل کی تو تبدیل نہیں ہوگی، لیکن اگر اس تبدیلی میں ایسے الفاظ پائے گئے جن سے منت لازم ہو جاتی ہے ،تو ایک نئی منت لازم ہوجائےگی۔
منت،قسم کے الفاظ واپس نہیں ہوسکتے، چنانچہ تبیین الحقائق میں ہے:”واليمين تصرف لازم لا يصح الرجوع عنها “یعنی یمین ایک ایسا لازمی تصرف ہے، جس سے رجوع نہیں ہوسکتا۔
   اس کی علت بیان کرتے ہوئے علامہ شہاب الدین احمدشلبی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:”ولا رجوع فی اليمين لان فائدته وهی الحمل او المنع لا تحصل اذا صح الرجوع“یعنی یمین میں رجوع نہیں ہوسکتا، کیونکہ یہاں رجوع صحیح مانیں تویمین میں کسی کام کے کرنے یا چھوڑنے کےعزم والافائدہ حاصل نہیں ہوگا۔(تبیین الحقائق وحاشیتہ للعلامۃ الشلبی،جلد دوم ،صفحہ ۲۲٦) 
والله تعالیٰ اعلم
۱۱ جمادی الاول ۱۴۴۵ ھجری
26 نومبر 2023عیسوی یکشنبہ
Previous Post Next Post