مسئلہ:- امامِ مسجد کے لیے مسجد میں نیچے یا اوپر کب حجرہ بنانے کی اجازت ہے اور کب نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
مسجد تمام ہونے سے پہلے اوپر خواہ نیچے پیش امام کے لئے حجرہ بنانے کی شرعاً اجازت ہے مگر مکمل ہو جانے کے بعد حجرہ بنانے کی شرعاً اجازت نہیں۔
جیسا کہ محقق جلیل حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان حنفی متوفی ۱۳٤۰ ھ لکھتے ہیں:
" درمختار مطبع قسطنطنیہ جلد ٣ صفحہ ٥٧٣ میں ہے،
" لو بنی فوقہ بیتا للامام لایضر لانہ من المصالح اما لو تمت المسجد یت ثم اراد البناء منع ولو قال عنیت ذالک لم یصدق تاتارخانیۃ فادا کان ھذا فی الواقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدارالمسجد -"
یعنی" اگر مسجد کی چھت پر امام کے لئےگھر بنایا تو نقصان نہیں کہ یہ مصالح مسجد سے ہے ، مگر مسجد پوری ہونے کے بعد اگر امام کے لئے بھی گھر بنانا چاہے گا نہ بنانے دیں گے اور اگر کہے گا کہ میری پہلے سے یہی نیت تھی جب بھی نہ مانیں گے - تاتارخانیہ میں ہے تو جب یہ حکم خود بانئ مسجد پر ہے تو دوسرے کا کیا ذکر..؟ تو اس کا ڈھاناواجب ہے اگرچہ مسجد کے دیوار پر ہی کچھ بنایا ہو -
فتاویٰ رضویہ جلد ۱٦ صفحہ ۳۳٦ رضا فاؤنڈیشن لاہور
فلہذا نقل کردہ عبارات سے معلوم ہوا کہ مسجد مکمل ہونے سے پہلے اگر مسجد میں اوپر خواہ نیچے اسباب مسجد رکھنے کے لئے روم یا پیش امام کے رہنے کے لئے حجرہ بنانے کی شرعاً اجازت ہے مگر مکمل ہونے کے بعد حجرہ بنانے کی شرعی طور پر قطعاً اجازت نہیں - یہاں تک کہ اگر بنا بھی دیا گیا ہے تو گرا دینے کا حکم شرعی ہے -
والله تعالیٰ اعلم
۱٦ ربیع الثانی ۱۴۴۵ ھجری
۱ نومبر ۲۰۲۳ عیسوی چہار شنبہ
Tags:
مسجد کا بیان