مسئلہ؛-بکر نے فرض کی نیت کرکے نماز شروع کی اور درمیان میں گمان ہوا کہ یہ نفل نماز ہے اور بہ نیت نفل نماز پوری کی تو فرض ادا ہوئے یا وہ نماز نفل ہوگئی؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں فرض نماز ادا ہوئے کیونکہ نیت فرض کی ہی کرکے شروع کی تھی۔
فتاویٰ عالمگیری جلد اول میں ہے:
رَجُلٌ افْتَتَحَ الْمَكْتُوبَةَ فَظَنَّ أَنَّهَا تَطَوُّعٌ فَصَلَّى عَلَى نِيَّةِ التَّطَوُّعِ حَتَّى فَرَغَ فَالصَّلَاةُ هِيَ الْمَكْتُوبَةُ وَلَوْ كَانَ الْأَمْرُ بِالْعَكْسِ فَالْجَوَابُ بِالْعَكْسِ ، اھ
(کتاب الصلاۃ، الباب الثالث في شروط الصلاۃ، الفصل الرابع، ج ۱ ، ص ۶۶۔)
یعنی، کسی شخص نے فرض نماز شروع کی پھر اس کو یہ گمان ہو گیا کہ نفل پڑھتا ہوں اور نفل کی نیت پر نماز تمام کرلی تو وہ نماز فرض ادا ہوئی اور اگر اس کے برعکس ہوا تو جواب بھی برعکس ہوگا "
اور حضور صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں!
" نماز بہ نیت فرض شروع کی پھر درمیان نماز میں یہ گمان کیا کہ نفل ہے اور بہ نیت نفل نماز پوری کی تو فرض ادا ہوئے اور اگر بہ نیت نفل شروع کی اور درمیان میں فرض کا گمان کیا اور اسی گمان کے ساتھ پوری کی، تو نفل ہوئی "
(بہار شریعت جلد اول صفحہ ۴۹۸ مکتبہ دعوت اسلامی )
والله تعالیٰ اعلم
۸ ربیع الثانی ۱۴۴۵ ھجری
۲۴ اکتوبر ۲۰۲۳ عیسوی سہ شنبہ