مسئلہ:- ارضِ فلسطین بیت المقدس کِس صحابی رسول کے دور میں فتح ہوا کتنے ھجری میں ؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
15 ھجری خلیفۂ دوم حضرتِ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں،
جیسا کہ تاریخ جریر طبری میں ہے :
"وعن خالد وعبادة، قالا: صالح عمر أهل إيلياء بالجابية، وكتب لهم فيها الصلح لكل كورة كتابا واحدا، ما خلا أهل إيلياء.
بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما أعطى عبد الله عمر أمير المؤمنين أهل إيلياء من الأمان، أعطاهم أمانا لأنفسهم وأموالهم، ولكنائسهم وصلبانهم، وسقيمها وبريئها وسائر ملتها، أنه لا تسكن كنائسهم ولا تهدم، ولا ينتقص منها ولا من حيزها، ولا من صليبهم، ولا من شيء من أموالهم، ولا يكرهون على دينهم، ولا يضار أحد منهم، ولا يسكن بإيلياء معهم أحد من اليهود، وعلى أهل إيلياء أن يعطوا الجزية كما يعطي أهل المدائن، وعليهم أن يخرجوا منها الروم واللصوت، فمن خرج منهم فإنه آمن على نفسه وماله حتى يبلغوا مأمنهم، ومن أقام منهم فهو آمن، وعليه مثل ما على أهل إيلياء من الجزية، ومن أحب من أهل إيلياء أن يسير بنفسه وماله مع الروم ويخلي بيعهم وصلبهم فإنهم آمنون على أنفسهم وعلى بيعهم وصلبهم، حتى يبلغوا مأمنهم، ومن كان بها من أهل الأرض قبل مقتل فلان، فمن شاء منهم قعدوا عليه مثل ما على أهل إيلياء من الجزية، ومن شاء سار مع الروم، ومن شاء رجع إلى أهله فإنه لا يؤخذ منهم شيء حتى يحصد حصادهم، وعلى ما في هذا الكتاب عهد الله وذمة رسوله وذمة الخلفاء وذمة المؤمنين إذا أعطوا الذي عليهم من الجزية شهد على ذلك خالد بن الوليد، وعمرو بن العاص، وعبد الرحمن بن عوف، ومعاوية بن أبي سفيان وكتب وحضر سنة خمس عشرة."
(سنة خمس عشرہ،ذكر فتح بيت المقدس،ج:3،ص:609،ط:دار المعارف مصر)
ترجمہ:ـ’’ یہ وہ امان ہے جو خدا نیک بندے امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایلیا کے لوگوں کو دی ،یہ امان ان کی جان ،مال ،گرجا ،صلیب ،تندرست ،بیمار ،اور ان کے تمام مذہب والوں کے لیے ہے اس طرح پر کہ ان کے گرجاؤں میں نہ سکونت کی جائے گی،نہ وہ ڈھائے جائیں گےنہ ان کو اورنہ ان کے احاطہ کو کچھ نقصان پہنچایا جائے گا،نہ ان کی صلیبوں اور ان کے مال میں کچھ کمی کی جائے گی،مذہب کے بارے میں ان پر جبر نہ کیا جائے گا،نہ ان میں سے کسی کو نقصان پہنچایا جائے گا،ایلیاء میں ان کے ساتھ یہودی نہ رہنے پائیں گے ،ایلیاء والوں پر یہ فرض ہے کہ اور شہروں کی طرح جزیہ دیں اور یونانیوں اور چوروں کا نکال دیں ،ان یونانیوں میں سے جو شہر سے نکلے گا،اس کی جان اور مال کو امن ہے تاکہ وہ جائے پناہ میں پہنچ جائے،اور جو ایلیاء ہی میں رہنا اختیار کرلے تو اس کو بھی امن ہے اور اس کو جزیہ دینا ہوگا،،اور ایلیاء والوں میں سے جو شخص اپنی جان اور مال لے کر یونانیوں کے ساتھ چلا جانا چاہے تو ان کو اور ان کے گرجاؤں کو اور صلیبوں کوامن ہے ،یہاں تک کہ وہ اپنی جائے پناہ تک پہنچ جائیں ،اور جو کچھ اس تحریر میں ہے ،اس پر خداکا اس کے رسول ،خدا کے خلیفہ کا اور مسلمانوں کا ذمہ ہے ،بشرط یہ کہ یہ لوگ جزیہ مقررہ ادا کرتے رہیں ،اس تحریر پر گواہ ہیں خالد بن ولید،عمرو بن العاص ،عبد الرحمن بن عوف اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالی ٰ عنہم ،اور یہ ۱۵ ہجری میں لکھا گیا۔‘‘
والله تعالیٰ اعلم بالصـــواب
۷ربیع الثانی ۱۴۴۵ ھجری
۲۴ اکتوبر ۲۰۲۳ عیسوی دو شنبہ
Tags:
متفرقات