مسئلہ:- خالد امام ہے اُس نے قصد کرلیا کہ میں بکر کا امام نہیں ہوں پھر بھی بکر نے اقتدا کی تو بکر کی نماز ہوئی یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں بکر کی نماز ہوگئی اگرچہ خالد نے قصد کرلیا تھا کہ میں بکر کا امام نہیں ہوں ،
فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ ٦٦ میں ہے
*الامام ینوی ماینوی المنفردولایحتاج الی نیۃ الامامۃ حتی لونوی ان لایوم فلانافجاء فلان واقتدی به جاز، ھکذفی فتاویٰ قاضی خان ،*
یعنی امام وہی نیت کرےجواکیلےنمازپڑھنےوالےکی ہوتی ہےاسےامامت کی نیت کی حاجت نہیں ہےحتی کہ اگرکسی نےیہ نیت کرلی کہ میں فلاں کاامام نہیں ہوں، پھراس شخص نےاس کی اقتداکی نیت کی تواس کی نمازبھی ہوجائےگی
ایسا ہی انوار الفتاویٰ جلد اول صفحہ ۲۱۵ میں ہے،
بہار شریعت میں ہے:
*مقتدی کو اقتدا کی نیت بھی ضروری ہے اور امام کو نیت اِمامت مقتدی کی نماز صحیح ہونے کے لیے ضروری نہیں ، یہاں تک کہ اگر امام نے یہ قصد کرلیا کہ میں فلاں کا امام نہیں ہوں اور اس نے اس کی اقتدا کی نماز ہوگئی، مگر امام نے اِمامت کی نیت نہ کی تو ثوابِ جماعت نہ پائے گا اور ثوابِ جماعت حاصل ہونے کے لیے مقتدی کی شرکت سے پیشتر نیت کر لینا ضروری نہیں، بلکہ وقت شرکت بھی نیت کر سکتا ہے*
بہارشریعت حصہ سوم صفحہ۴۹۵ مکتبۃ المدینہ کراچی)
والله تعالیٰ اعلم
۱۰ ربیع الثانی ۱۴۴۵ ھجری
۲۶ اکتوبر ۲۰۲۳عیسوی پنجشنبہ
Tags:
نماز کا بیان