مسئلہ:- ہندؤں کے تہوار دیوالی کے موقع پر سامان وغیرہ کم قیمت میں ملتی ہے یعنی آفر رہتا ہے تو اُس وقت آفر کا فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو سامان خریدنا کیسا ہے ؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
جائز ہے، خرید سکتے ہیں اسلئے کہ خود یہ باںٔع کی جانب سے قیمت میں کمی کی صورت ہے جس میں اس کا شرعاً حق حاصل ہے، اگرچہ وہ اس کمی کرنے کو کسی خاص دن یا موقع کے ساتھ مشروط کیوں نہ کردے، لہٰذا وہ قیمت میں جتنی بھی کمی کرےگا وہ کمی اصل عقد کے ساتھ ملحق ہو جائے گی۔۔ جیسا کہ امام فخر الدین عثمان بن علی زیلعیى حنفى متوفی ۷٤۳ھ فرماتے ہیں
" یجوز للبائع ان یحط من الثمن وان یزید فی المبیع ویلتحق باصل العقد- اھ (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق، جلد چہارم (٤) باب التولية صفحہ (۸۳)
یعنی،بائع کیلئے ثمن میں کمی کرنا یا مبیع میں اضافہ کرنا جائز ہے اور کمی وزیادتی دونوں اصلِ عقد کے ساتھ ملحق ہوجائیں گی۔ اور ہدایہ جلد سوم صفحہ ۳۷۵ میں ہے ویجوز للبائع أن یزید للمشتري في المبیع ویجوز أن یحطّ عن الثمن -اھ
والله تعالیٰ اعلم
۱۶ربیع الاوّل شریف ۱۴۴۵ ھجری
۲ اکتوبر ۲۰۲۳ عیسوی دوشنبہ
Tags:
متفرقات