دوسری بیوی کی لڑکی جو دوسرے مرد سے ہے اُس سے نکاح کرسکتے ہیں یا نہیں؟

مسئلہ:- خالد کی ایک لڑکی تھی خالد کا انتقال ہوگیا خالد کی بیوی سے بکر نے شادی کرلی خالد کی لڑکی بالغ ہوگئ لیکن اتفاقاً بکر کی بیوی یعنی لڑکی کی ماں انتقال کرگئی تو کیا بکر اس ساتھ لائی لڑکی سے نکاح کرسکتا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب 
بکر اُس لڑکی سے نکاح نہیں کرسکتا حرام ہے کیوں کہ وہ اس کی سوتیلی بیٹی ہوئی 
   سوتیلی بیٹی کے حرام ہونے سے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے :﴿وَرَبَائِبُکُمُ الّٰتِیۡ فِیۡ حُجُوۡرِکُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیۡ دَخَلْتُمۡ بِہِن﴾ترجمہ کنزالایمان :اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں اُن بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو۔ (القرآن الکریم،پارہ ٤ ،سورۃ النساء،آیت:۲۳ )
اِس آیت کے تحت امام حافظ الدین ابوالبرکات نسفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”الربیبۃ من المراۃ المدخول بھا حرام علی الرجل“یعنی جس عورت کے ساتھ دخول کر لیا ہو، اس کی بیٹی مرد پر حرام ہے۔(تفسیر نسفی، جلداول ،صفحہ ۳٤٦، بیروت)

   در مختار میں ہے:”حرم المصاھرۃ بنت زوجتہ الموطوءۃ“یعنی اپنی موطوءہ بیوی کی بیٹی مصاہرت کی وجہ سے حرام ہے۔(در مختار مع رد المحتار، جلد۳ ،صفحہ ۳۰ ، مطبوعہ:بیروت)
محقق جلیل حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ مذکورہ آیت نقل کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں:”اس آیہ کریمہ میں زنِ مدخولہ کی بیٹی حرام فرمائی ۔۔۔ مناطِ حرمت صرف وطی ہے اور حاصلِ آیتِ کریمہ یہ کہ جس عورت سے تم نے کسی طرح صحبت کی، اگرچہ بلانکاح اگرچہ بروجہ حرام، اس کی بیٹی تم پر حرام ہوگئی۔“(فتاوی رضویہ ملتقطاً ، جلد ۱۱ ، صفحہ ۳۵۵ -۳۵٤، رضافانڈیشن لاہور)
اور صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا :”کیا زوجہ کی لڑکی سے اس کی موجودگی میں نکاح ہوسکتا ہے؟“ آپ رحمۃ اللہ علیہ اس کے جواب میں فرماتے ہیں:”جس عورت سے نکاح کیا اور دخول بھی کرچکا، اس کی لڑکی حرام ہے ، نہ عورت کی موجودگی میں اس سے نکاح کرسکتا ہے اور نہ اس کے مرنے یا طلاق دینے کے بعد، اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا"وَرَبَائِبُکُمُ الّٰتِیۡ فِیۡ حُجُوۡرِکُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیۡ دَخَلْتُمۡ بِہِن"۔“(فتاویٰ امجدیہ، جلد۲ ، صفحہ ۸۹، مکتبہ رضویہ کراچی)
والله تعالیٰ اعلم
۳ ربیع الثانی ۱۴۴۵ ھجری  
۱۹ اکتوبر ۲۰۲۳ عیسوی پنجشنبہ
Previous Post Next Post