مسئلہ:- ایک مرتبہ کہا جا میں نے تجھے چھوڑ دیا تو اس طرح کہنے سے کون سی طلاق واقع ہوئی؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
تجھے چھوڑ دیا یہ صریح ہے اور صریح الفاظ سے طلاق دینے کی صورت میں طلاق رجعی واقع ہوتی ہے لہذا ایک طلاق رجعی واقع ہوئی
حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان نے اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرمایا کہ طلاق رجعی ہوگئی( فتاوی رضویہ شریف جلد دوازدہم (۱۲) صفحہ (۵٦۰) رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اور حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ۔اردو میں یہ لفظ کہ میں نے تجھے چھوڑا صریح ہے اس سے ایک رجعی ہوگی کچھ نیت ہو یا نہ ہو۔۔ ( بہار شریعت جلد ہشتم (۸) صریح کا بیان صفحہ (۱۱۷) مکتبۃ المدینہ) اب اگر شوہر بیوی کو پھر سے رکھنا چاھتا ہے تو عدت کے اندر رجعت کرسکتا ہے اگر عدت کےاندر رجعت نہیں کیا عدت گزر گئی تو اب بیوی کی مرضی سے دوبارہ نئے مہر کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے البتہ اب وہ صرف دو طلاق کا مالک رہے گا جب بھی دو طلاق دے گا طلاق مغلظہ واقع ہوجائے گی ،
والله تعالیٰ اعلم
۲۹ ربیع الاوّل ۱۴۴۵ ھــــــجری
۱۵ اکتوبر ۲۰۲۳ عیسوی یکشنبہ
Tags:
طلاق کا بیان