مسئلہ:-ہندہ کی عمر 35 سال ہے ہندہ مطلقہ ہے عدت گزار رہی تھی دو ہی حیض آیا تھا کہ حیض آنا بند ہوگیا یعنی حیض بند ہوئے 3 ماہ سے زائد ہوگئے تو کیا ہندہ اب دوسرا نکاح کرسکتی ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
نہیں کرسکتی تیسرے حیض کا انتظار کرے کیونکہ طلاق والی مدخولہ عورت کی عدت تین حیض ہے (جب کہ نابالغہ یا پچپن سالہ نہ ہو) خواہ تین حیض تین مہینے میں آئے یا تین سال میں۔ارشاد ربانی ہے "والمطلقت یتربصن بانفسھن ثلثة قروء"(پ٢، س البقرہ، آیت٢٢٧)
اور بہار شریعت میں عالمگیری کے حوالے سے ہےکہ،عورت کو حیض آچکاہے مگر اب نہیں آتا اور ابھی سن آیاس کو بھی نہیں پہنچی ہے اس کی عدت بھی حیض سے ہے جب تک تین حیض نہ آلیں یا سن آیاس کو نہ پہنچے اس کی عدت ختم نہیں ہوسکتی اور اگر حیض آیا ہی نہ تھا اور مہینوں سے عدت گزار رہی تھی کہ اثنائے عدت میں حیض آگیا تو اب حیض سے عدت گزارے یعنی جب تک تین حیض نہ آلیں عدت پوری نہ ہوگی۔ (جلد ۲ ح٨، ص٢٣۵،مکتبة المدینہ دعوت اسلامی/ اور ایساہی وقار الفتاوی جلد سوم صفحہ ٢٠٦ میں ہے
والله تعالیٰ اعلم
۲۵ ربیع الاوّل ۱۴۴۵ ھــــــجری
۱۱ اکتوبر ۲۰۲۳عیسوی چہارشنبہ
Tags:
عدت کا بیان