فرض اور واجب میں کیا فرق ہے؟


   مسئلہ:- زید کہتا ہے فرض واجب میں کوئی فرق نہیں اور بکر کہتا ہے فرض واجب میں فرق ہے 
دونوں میں کس کا قول درست ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
بکر کا قول درست ہے " 
 فرض اُسے کہتے ہیں جو کسی قطعی دلیل مثلًا: قرآن کریم کی کسی واضح آیت یا متواتر حدیث سے ثابت ہو، جب کہ "واجب" ظنی دلیل سے ثابت شدہ عمل کو کہا جاتا ہے، نیز فرض کا منکر کافر ہوجاتا ہے، واجب کے انکار پر کفر کا حکم نہیں لگتا۔ حضرت علامہ ابن عابدین شامی حنفی متوفی ۱۲۵۲ ھ فرماتے ہیں:  قَطْعِيُّ الثُّبُوتِ وَالدَّلَالَةِ كَنُصُوصِ الْقُرْآنِ الْمُفَسِّرَةِ أَوْ الْمُحْكَمَةِ وَالسُّنَّةِ الْمُتَوَاتِرَةِ الَّتِي مَفْهُومُهَا قَطْعِيٌّ. الثَّانِي قَطْعِيُّ الثُّبُوتِ ظَنِّيُّ الدَّلَالَةِ كَالْآيَاتِ الْمُؤَوَّلَةِ۔( رد المحتار، ج: ۱، ص: ۱۱۵، مطلب: فی الفرض القطعی و الظنی، دار المعرفۃ بیروت لبنان)
ترجمہ:  جو قطعی الثبوت والدلالت نص سے ثابت ہو وہ فرض ہے جو قطعی الثبوت ظنی الدلالة یا ظنی الثبوت قطعی الدلالة نص سے ثابت ہو وہ واجب ہے۔
والله تعالیٰ اعلم
۱۸ صفر المظفر ۱۴۴۵ ھجری
۵ ستمبر ۲۰۲۳ عیسوی سہ شنبہ
Previous Post Next Post