قبر میں بوقتِ سوال حضور ﷺ کے دیدار کے حوالے سے شارحین حدیث نے کیا لکھا ہے؟

مسئلہ:- سوالات قبر میں سے جو تیسرا سوال ہے مَا کُنْتَ تَقُولُ فِيْ ھَذَا الرَّجُلِ شارحینِ حدیث نے اس کی کتنی توجیہیں ( صورتیں) بیان کی ہیں؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
تین توجیہیں ( صورتیں بیان کی ہیں ،، 
یعنی قبر میں دیدار مصطفی ﷺ کی کیفیات و احوال پر علماء کا اختلاف ہے کسی نے کہا جسد مثالی پیش کی جاتی ہے تو کسی نے کہا مزار پر انوار سے پردہ اٹھا دیا جاتا ہے، 
حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
 قبر میں مردے سے سوال کس طرح ہوتا ہے شارحینِ حدیث نے اس کی تین توجیہیں (یعنی تین صورتیں بیان ) کی ہیں ایک تو یہ کہ قبر سے گنبدِ خَضریٰ تک کے سارے حِجابات (یعنی پردے) اٹھا دیئے جائیں گے اور مُردہ جمالِ جہاں آرا سے مُشَرّف ہوگا، اب نَکِیْرَین (یعنی قبر میں سوالات کرنے والے دو فرشتے مُنْکَر نَکِیر) حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف اشارہ کرکے پوچھیں گے۔
 دوسری توجیہ یہ ہے کہ حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ وسلَّم کی شبیہ مبارک نَکِیْرَین کے پاس ہوگی ، اُس کی طرف اشارہ کرکے پوچھیں گے۔
 تیسری توجیہ یہ کہ ہے کہ حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ وسلَّم خود تشریف لاتے ہیں۔
( فتاویٰ شارح بخاری جلد اول صفحہ (۴۰۶) 
اور امام اہلسنت فقیہ باکمال امام احمد رضا خان محدث بریلوی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں:
اس کے بعد (فرشتے) سوال کرتے ہیں *مَا تَقُوْلُ فِی ھٰذَا الرَّجُل* ان کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ اب نہ معلوم کہ سرکار ( صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) خود تشریف لاتے ہیں یا *رَوضۂ مُقَدّسہ* سے پردہ اٹھا دیا جاتا ہے ، شریعت نے کچھ تفصیل نہ بتائی اور چونکہ امتحان کا وقت ہے اس لیے *ھٰذَا النَّبی* نہ کہیں گے *ھٰذَا الرَّجُل* کہیں گے،
(ملفوظات اعلیحضرت صفحہ (۵۲۶) مکتبہ المدینہ ) 
والله تعالیٰ اعلم
۱۱ ربیع الاوّل شریف ۱۴۴۵ ھجری
۲۷ ستمبر ۲۰۲۳عیسوی چہارشنبہ
Previous Post Next Post