حضور ﷺ کی نمازِ جنازہ سب سے آخر میں کس صحابی نے پڑھی؟

مسئلہ:- وہ کون سے خوش نصیب صحابئی رسول ہیں جن کے بعد حضور ﷺ کے جنازے کی نماز کسی نے نہیں پڑھی؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
 حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد کسی نے نماز جنازہ نہ پڑھی کہ آپ ہی ولی شرعی مقرر ہوئے ۔اورجب ولی نماز جنازہ پڑھ لے تو اسکے بعد کسی کے لئے پڑھنا جائز نہیں 
 ہدایہ جلد اول صفحہ/١٨٠ میں ہے
 ان صلی الولی لم یجز لاحد ان یصلی بعدہ اھ۔
(فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ ۲٦٤ کتاب الجنائز)
محقق جلیل حضور اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں: امام قاضی عیاض نے اسی نماز معروف کی تصحیح فرمائی ہے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تسکین فتن اور انتظام امور میں مشغول جب تک انکے دست حق پرست پر بیعت نہ ہوئی تھی لوگ فوج فوج آتے اورجنازۂ انور پر نماز پڑھتے جاتے جب بیعت ہولی ولی شرعی صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہوئے انہوں نے جنازۂ اقدس پر نماز پڑھی پھر کسی نے نہ پڑھی کہ بعد صلاة ولی پھر اعادۂ نماز جنازہ کا اختیار نہیں ۔اس وجہ سے بعد میں کچھ آنے والوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ نہیں پڑھی 
 مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی میں ہے
 ان ابابكر رضى الله تعالى عنه كان مشغولا بتسوية الأمور وتسكين الفتنة فكانوا يصلون عليه قبل حضوره وكان الحق له لانه هو الخليفلة فلما فرغ صلى عليه ولم يصل بعد علیہ " اھ 
( فتاوی رضویہ قدیم جلد چہارم صفحہ ۵٤) 
والله تعالیٰ اعلم
۱۰ ربیع الاوّل شریف ۱۴۴۵ ھجری
۲٦ ستمبر ۲۰۲۳ عیسوی سہ شنبہ
Previous Post Next Post