معراج کی شب مسجد اقصیٰ میں حضور ﷺ نے جو امامت فرمائی وہ کونسی نماز تھی؟

مسئلہ:- حضور نبئ اکرم ﷺ نے معراج کی شب میں مسجد اقصیٰ میں جو امامت فرمائی تھی وہ نماز سنت تھی یا فرض یا نفل؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
کونسی نماز تھی اس میں اختلاف ہے

علامہ قسطلانی علیہ الرحمہ فرماتےہیں

” وقداختلف فی ھذہ الصلوة ھل فرض او نفل ؟ 

(المواھب اللدنیۃ جلد سوم صفحہ ۵۲) 

 علامہ زرقانی علیہ الرحمہ فرماتےہیں

 والذی ظھر انہا کانت من النفل المطلق “

(شرح الزرقانی علی المواھب جلد ہشتم صفحہ ١١٤) 

علامہ علی قاری علیہ الرحمہ فرماتےہیں

” ای تحیة المسجد والظاھر ان ھذہ ھی الصلوة التی اقتدی بہ الانبیاء وصار فیھا امام الاصفیاء “

مرقاةالمفاتیح جلد دہم صفحہ ۵٦۰ ،) 

اور ہوسکتاہے کہ یہ نماز نفل رہی ہو اور دیگر خصوصیات کی طرح حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہو

علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ فرماتےہیں

” ان ھذہ الصلوة کانت من النفل المطلق ولایضر وقوع الجماعة فیھا “

( تفسیر روح البیان جلد پنجم صفحہ ١١٢) 

علامہ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں 

حضور نے امت فرمائی اور تمام انبیاء و ملائکہ علیھم السلام نے اقتدا کی اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ نماز نفل تھی یا فرض "
(مدارج النبوت جلد اول صفحہ ۲۱۵ ) 
والله تعالیٰ اعلم
۱٦ صفر المظفر ۱۴۴۵ ھجری
۳ ستمبر ۲۰۲۳ عیسوی یکشنبہ
Previous Post Next Post