مسئلہ:- زید نے ایام رضاعت میں اپنی خالہ کا دودھ پیا تو خالہ کی نواسی سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
زید نے ایام رضاعت میں جس عورت کا دودھ پیا ہے اس کی نواسی سے زید کا نکاح جائز نہیں۔ نسب کی وجہ سے جو رشتے حرام ہوتے ہیں چند استثنائی رشتوں کے سوا وہ رشتے رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہوتے ہیں، نومولود نے ایام رضاعت میں جس عورت کا دودھ پیا خواہ جان بچانے کی خاطر اس کو پلایاگیاہے یا کسی اور غرض سے بہرصورت وہ میاں بیوی اسکے رضاعی ماں باپ قرار پاتے ہیں لہذا وہ اور انکے اصول وفروع اس دودھ پینے والے بچہ پر حرام ہوجاتے ہیں یعنی دودھ پلانے والی خاتون کے دادا دادی‘ نانا نانی‘ بیٹا بیٹی‘ پوتا پوتی‘ نواسہ نواسی‘ اس دودھ پینے والے بچہ پر حرام ہوجاتے ہیں۔عالمگیری میں ہے:
یحرم علی الرضیع ابواہ من الرضاع واصولھما و فروعھما من النسب والرضاع جمیعاً۔ ( الفتاوی الھندیہ، جلد اول کتاب الرضاع، ص:۳۴۳)
واللہ تعالیٰ اعلم
۱۵ صفر المظفر ۱۴۴۵ ھجری
۲ ستمبر ۲۰۲۳ عیسوی شنبہ
Tags:
نکاح کا بیان