انڈے کا چھلکا بطورِ دوا استعمال کرنا کیسا ہے؟

زید کہتا ہے  انڈے کا چھلکا دوا کے طور پر استعمال کرنا ناجائز ہے اور بکر کہتا ہے جائز ہے دونوں میں کس کا قول درست ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
 بکر کا قول درست ہے 
کیونکہ انڈے کا چھلکا فی نفسہ پاک ہے جبکہ اس پر کوئی اور نجاست مثلاً مرغی کی بیٹ وغیرہ نہ لگی ہو اور اگر لگی بھی ہو تو اس کو صاف کرلے
اس کا کھانا حلال ہے لہٰذا اس کو دوا کے طور پر استعمال کرنا بھی جائز ہے۔ کیونکہ ہر وہ چیز جو جائز ہے اس کو بطورِ دوا استعمال کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں 
محقق جلیل حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ سے انڈے کے چھلکے کے حلال ہونے کے متعلق سوال ہوا: پوست بیضہ خوردن؟ یعنی: انڈے کا چھلکا کھانا؟اس کے جواب میں امام اہلسنت فرماتے ہیں:’’ پوست بیضہ جز اوست پس درحلت و حرمت بحکم اوست ہمچوں جلد حیوان، یعنی:انڈے کا چھلکا انڈے کے حکم میں ہے کیونکہ اس کا جزء ہے جیسا کہ حیوان کی کھال، واللہ تعالیٰ اعلم۔ ‘‘(فتاوی رضویہ،جلد۲۰ ،۳۳۹ ۔۳٤۰، رضافاؤنڈیشن،لاہور)
والله تعالیٰ اعلم
۱ ربیع الاوّل شریف ۱۴۴۵ ھجری 
۱۷ ستمبر ۲۰۲۳ عیسوی یکشنبہ ا
Previous Post Next Post