کیا پوسٹ مارٹم کے بعد دوبارہ میت کو غسل دینا ضروری ہے؟

مسئلہ:- میت کو غسل دینے کے بعد پوسٹ مارٹم ہوا تو کیا دوبارہ غسل دینا ضروری ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں دوبارہ غسل دینا ضروری نہیں البتہ اگر خون وغیرہ کوئی نجاست لگی ہو تو اسے دھو دیاجائےگا
چنانچہ امام ابراہیم بن محمد بن ابراھیم حلبی حنفی متوفی ۹۵۶ھ فرماتے ہیں
 فإن خرج منه شيء . غسله ولا يعيد غسله ولا وضوؤه "
ملتقی_الابحر مع مجمع الانھر ، جلد اول صفحہ ۲٦۵کتاب الصلاۃ ، باب الجنائز ،) 
یعنی ، اگر غسل کے بعد میت کے اندر سے کچھ نکلا تو اسے دھو دیا جائے ، غسل و وضو کا اعادہ نہیں اور علامہ نظام الدین برہان پوری حنفی متوفی ۱۰۹۲ ھ اور جماعت علمائے ہند فرماتے ہیں "والواجب ہو الغسل مرۃ واحدۃ ۔۔۔۔۔ فان خرج منہ شیٔ غسلہ ولا یعید غسلہ ولا وضوءہ 
الفتاوی_الھندیۃ جلد اول صفحہ ۱۷۳ ، کتاب الصلاۃ ، باب الجنائز ، الفصل الثانی ،) 
یعنی ، میت کو ایک بار ہی غسل دینا واجب ہے ۔۔۔۔ تو اگر اس سے کچھ نکلا تو دھو دیا جائےگا اور غسل و وضو کا اعادہ نہیں کیاجائے گا 
اور علامہ ابن عابدین شامی حنفی متوفی ۱۲۵۲ھ فرماتے ہیں
" قوله: وقد حصل أي: الغسل، وبطُرُوِّ النجاسة بعده لا يعاد، بل يُغسل موضعها "
ردالمحتار ، جلد پنجم صفحہ ۲۱۱کتاب الصلاۃ ، باب صلاۃ الجنائز ،) 
یعنی ، غسل کے بعد طروء نجاست سے غسل کا اعادہ واجب نہیں بلکہ صرف نجاست کو دھو دینا کافی ہے 
واللہ تعالیٰ اعلم
۲۹ صفر المظفر ۱۴۴۵ ھجری
۱۶ ستمبر ۲۰۲۳ عیسوی شنبہ
Previous Post Next Post