نابینا نے غیر قبلہ کی طرف منھ کرکے نماز پڑھی تو کیا حکم ہے؟

مسئلہ :- نابینا نے کسی سے قبلہ نہیں معلوم کیا حالانکہ وہاں قبلہ بتانے والے تھے مگر دریافت نہیں کیا ویسے ہی غیر قبلہ کی طرف منھ کرکے نماز پڑھ رہا تھا اور کسی بینا نے نابینا کو قبلہ کی طرف سیدھا کرکے اُس کی اقتدا کی تو نماز کا کیا حکم ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں دونوں کی نماز نہیں ہوئی کیونکہ نابینا نے دریافت کیوں نہیں کیا تھا وہاں جب بتانے والے موجود تھے ، 
جیسا کہ بہار شریعت میں خانیہ، ہندیہ، غنیہ ، ردالمحتار کے حوالے سے ہے : نابینا غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھ رہا تھا، کوئی بینا آیا، اس نے اسے سیدھا کر کے اس کی اقتدا کی، تو اگر وہاں کوئی شخص ایسا تھا، جس سے قبلہ کا حال نابینا دریافت کر سکتا تھا، مگرنہ پوچھا، دونوں کی نمازیں نہ ہوئیں اور اگر کوئی ایسا نہ تھا، تو نابینا کی ہوگئی اور مقتدی کی نہ ہوئی۔
(بہار شریعت حصہ سوم صفحہ 494) 
والله تعالیٰ اعلم
۲۱ محرم الحرام ۱۴۴۵ ھجری
۹ اگست ۲۰۲۳ عیسوی چہار شنبہ
Previous Post Next Post