مسئلہ :-عورت سورہ فاتحہ بطورِ وظیفہ پڑھ رہی تھی چالیس دن کا عمل ہے درمیان میں حیض آگیا تو وظیفہ ترک کردے یا پڑھ سکتی ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
پڑھ سکتی ہے بنیتِ دعا جیسا کہ بہار شریعت میں ہے: کہ اگر قرآن کی آیت دُعا کی نیت سے یا تبرک کے لیے جیسے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ یا ادائے شکر کو یا چھینک کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ یا خبرِ پریشان پر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہا یا بہ نیتِ ثنا پوری سورۂ فاتحہ یا آیۃالکرسی یا سورۂ حشر کی پچھلی تین آیتیں ھُوَاللہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَسے آخر سورۃتک پڑھیں اور ان سب صورتوں میں قرآن کی نیّت نہ ہو توکچھ حَرَج نہیں
یوہیں تینوں قل بلا لفظ قل بہ نیتِ ثنا پڑھ سکتا ہے اور لفظِ قُل کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا اگرچہ بہ نیّت ثنا ہی ہو کہ اس صورت میں ان کا قرآن ہونا متعین ہے نیّت کو کچھ دخل نہیں ۔ درود شریف اور دعاؤں کے پڑھنے میں انھیں حَرَج نہیں مگر بہتر یہ ہے کہ وُضو یا کُلی کر کے پڑھیں۔
(بہار شریعت جلد اول حصہ دوم صفحہ 326 )
اسی طرح ایک سوال کے جواب میں محقق جلیل اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ھذا کلہ اذا قرأ علی قصد انہ قراٰن اما اذا قراہ علی قصد الثناء اوافتتاح امر لایمنع فی اصح الرویات وفی التسمیۃ اتفاق انہ لایمنع اذا کان علی قصد الثناء اوافتتاح امرکذا فی الخلاصۃ وفی العیون لابی اللیث ولو انہ قراء الفاتحۃ علی سبیل الدعاء اوشیئا من الایات التی فیہا معنی الدعاء ولم یرد بہ القراء ۃ فلا باس بہ واختارہ الحلوانی وذکر غایۃ البیان انہ المختار
یہ سب اس وقت ہے جب بقصدِ قرآن پڑھے۔لیکن جب ثنایاکسی کام کے شروع کرنے کے ارادے سے پڑھے تواصح روایات میں ممانعت نہیں۔ اورتسمیہ کے بارے میں تواتفاق ہے کہ جب اسے ثنا یا کسی کام کے شروع کرنے کے ارادے سے پڑھے توممانعت نہیں۔ایسا ہی خلاصہ میں ہے۔ امام ابو اللیث کی عیون المسائل میں ہے:اگر سورہ فاتحہ بطور دُعا پڑھی یا کوئی ایسی آیت پڑھی جو دُعا کے معنی پر مشتمل ہے اوراس سے تلاوتِ قرآن کاقصد نہیں رکھتاتوکوئی حرج نہیں اھ۔ اسی کو امام حلوانی نے اختیارکیا اورغایۃ البیان میں مذکور ہے کہ یہی مختار ہے۔( فتاوی رضویہ جلد اول صفحہ 1080 رضا فاؤنڈیشن لاہور
والله تعالیٰ اعلم
۲۰ محر الحرام ۱۴۴۵ ھجری
۸ اگست ۲۰۲۳ عیسوی سہ شنبہ
Tags:
حیض کا بیان