نماز کے لیے نیت زبان سے کہنا کیسا ہے؟

نماز کے لیے نیت زبان سے کہنا کیسا ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
   نیت دل کے پکے ارادے کو کہتے ہیں، ہاں زبان سے کہنا مستحب ہے ۔
درمختار میں ہے :
النية بالاجماع وهي الارادة
اسی کے تحت ردالمحتارمیں ہے
النية لغة العزم والعزم وهو الارادة الجازمة القاطعة
(رد المحتار جلد دوم صفحہ  ٩٠)
پھر آگے درمختار میں یہ ہے 
 والتلفظ عند الارادة بها مستحب هوالمختار و تكون بلفظ الماضي ولو فارسيا لانه في الاغلب في الانشاءات، وتصح بالحال. قهستانى وقيل سنة يعني احبه السلف او سنه علماؤنا اذ لم ينقل عن المصطفى ولا الصحابة ولاالتابعين بل قيل بدعة ، وفي المحيط يقول اللهم اني اريد انا اصلي صلاة كذا فيسرها لي وتقبلها مني
اسی کے تحت رد المحتار میں ہے
قوله : (بل قيل بدعة) نقله في الفتح . وقال في الحلية : ولعل الاشبهه انه بدعة حسنة
(رد المحتار علی الدر المختار جلد دوم صفحہ  ٩٢ )
فتح باب العناية میں ہے:
(و مع اللفظ )أي والقصد مع التلفظ بما يدل عليه افضل منه بلا تلفظ ، لأن اللسان ترجمان الجنان، وهذا بدعة حسنة استحسنها المشايخ للتقوية، او لدفع الوسوسة۔
فتح باب العنایۃ جلد اول صفحہ ٢١٤
مذکورہ بالا فقہی عبارات سے واضح ہو گیا کہ نیت، دل کے پختہ ارادے کو کہتے ہیں ، ارادہ کرتے وقت زبان سے کہہ لینا مستحب ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبان سے کہہ لینا سنت ہے، مگر سنت سے مراد یہ ہے کہ اسلاف نے اس کو پسند کیا، یا علماء نے اس کو رائج کیا تو یہ مشائخ کا طریقہ ہوا کیونکہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اور تابعین رضی اللہ عنہم سے منقول نہیں، محیط میں نیت کے الفاظ بھی مذکور ہے، کہ نیت کرتے وقت نمازی یوں کہے۔۔ اے اللہ میں فلاں نماز پڑھنے کا ارادہ کرتا ہوں ، تو تو اسے میرے لیے آسان فرما اور اس نماز کو میری جانب سے قبول فرما ۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بدعت ہے۔ فتح القدیر اور حلیہ میں یہ بتایا گیا کہ بدعت سے مراد بدعت حسنہ ہے ۔ بلکہ فتح باب العنایۃ کی عبارت سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنے کے ساتھ قصدوارادہ کرنا ، بغیر تلفظ کے نیت کرنے سے افضل ہے کیوں کہ زبان، دل کی ترجمانی کرتی ہے۔
_صاحب عنایہ نے یہ بھی واضح کیا کہ دل سے پختہ ارادہ کے ساتھ، زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا، بدعت حسنہ ہے جس کو مشایخ نے قصد و ارادے کو تقویت دینے یا وسوسہ کو دفع کرنے کے موجب مستحسن قرار دیا۔
اور فقیہ اعظم ہند، حضور صدر الشریعہ، علامہ امجد علی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :
زبان سے کہہ لینا مستحب ہے اور اس میں کچھ عربی کی تخصیص نہیں ، فارسی وغیرہ میں بھی ہو سکتی ہے اور تلفظ میں ماضی کا صیغہ ہو، مثلاً نَوَیْتُ یا نیت کی میں نے ۔
( بہارشریعت حصہ ٣ صفحہ ٤٩٢)
والله تعالیٰ اعلم
۲۲محرم الحرام ۱۴۴۵ ھجری
۱۰ اگست ۲۰۲۳ عیسوی پنجشنبہ
Previous Post Next Post