میت کو دفن کر نے کے بعد قبر منتقل کرنے کی کتنی صورتیں ہیں؟

مسئلہ :- میت کو قبر میں دفن کرنے کے بعد قبر کو منتقل کرنے کی کتنی صورتیں ہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
منتقل کرنے کی تین صورتیں ہیں 
ایک صورت بالاتفاق جائزہے دوسری صورت میں بالاتفاق ناجائزاورتیسری صورت میں اختلاف ہے، 
 جیسا کہ امام یوسف بن عمربن یوسف کادوری حنفی علیہ الرحمہ فرماتےہیں؛ 
النقل علی وجہین اما ان یکون قبل الدفن اوبعدہ ، وبعدالدفن علی ثلثۃ اوجہ ، یجوزبالاتفاق ، وفی وجہ لایجوز بالاتفاق ، وفی وجہ اختلفوا فیہ ، اماالاول اذا دفن فی ارض مغصوبۃ اوفی کفن مغصوب ولایرضی صاحبہ الا بنقلہ عن ملکہ اوبنزع ثوبہ ونبشہ جاز ان یحول منہ بالاتفاق فاذا نقل جاز لصاحب الارض ان یزرع ، واماالذی لایجوز نقلہ بالاتفاق کالام اذا ارادت ان تری وجہ ولدھا او تنقلہ الی مقبرةاخری ، لایجوز بالاتفاق ۔۔۔ واماالذی اختلفوافیہ بان غلب القبرماءکثیر فعندبعض المشائخ جازلہم تحویلہ عن ذالک الموضع “ اھ
جامع المضمرات والمشکلات فی شرح مختصرالامام القدوری جلد دوم صفحہ ٣٠٧ ، ٣٠٨ ،دارالکتب العلمیہ 

کہ قبرکی منتقلی اگربعددفن ہوتو تین صورتیں ہیں ایک صورت بالاتفاق جائزہے دوسری صورت میں بالاتفاق ناجائزاورتیسری صورت میں اختلاف ہے
جب میت کو زمین مغصوب یاکفن مغصوب میں دفن کیاجائے اورصاحب زمین و کپڑا بےانتقال ونزع ثوب راضی نہ ہوتو بالاتفاق انتقال ونبش جائزہے ، اوراگر بعددفن ماں اپنےبچےکاچہرہ دیکھناچاہے یا کسی دوسرےقبرستان میں منتقل کرناچاہے تو بالاتفاق جائزنہیں اور جب قبرمیں پانی بہت آجائے تو بعض مشائخ علیہم الرحمہ کےنزدیک اس جگہ سےمنتقل کرناجائزہے, 
والله تعالیٰ اعلم 
۱۹ محرم الحرام ۱۴۴۵ ھجری
۷ اگست ۲۰۲۳ عیسوی دوشنبہ
Previous Post Next Post