مسئلہ:- صاحبِ ثروت یعنی مالدار نے اپنے لڑکے کے عقیقہ میں ایک ہی بکرا ذبح کیا تو صحیح معنوں میں عقیقہ درست ہوا یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
لڑکے کے عقیقہ میں مستحب یہ ہے کہ دو بکرے ذبح کئے جائیں ، مگر کسی نے ایک بکرا بھی ذبح کیا تو بلا کراہت سنت عقیقہ ادا ہوگئی ، اسے سنت کی خلاف نہیں کہہ سکتے ہیں
اسلئے کہ ایک حدیث شریف سے لڑکے کے عقیقہ کیلئے ایک بکری ذبح کرنا بھی ثابت ہے
چنانچہ حضرت سیدنا مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں
عق رسولُ الله صلی الله علیہ وسلم عن الْحَسَنِ بشاة
(الجامع_للترمذی ، کتاب الاضاحی ، باب العقیقۃ بشاۃ ، رقم الحدیث: ۱۵۲۴ ، ص۴۶۸ ، مطبوعہ دارالفکر بیروت )
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت حسن کا عقیقہ ایک بکری سے کیا
اسی لئے امام ابوبکر بن علی الحداد حنفی متوفی ۸۰۰ھ فرماتے ہیں
" ثم اذا اراد ان يعق عن الولد يذبح عن الغلام شاتين وعن الجارية شاة ۔۔۔۔ ولو ذبح عن الغلام شاة جاز لان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عق عن الحسن والحسین رضی اللہ تعالى عنهما كبشا كبشا "
(السراج_الوھاج ، کتاب الاضحیۃ ، قبیل کتاب الایمان ، ص ۴۳۶ ، مخطوطہ ، رقم المخطوط: ۱۶۷۱)
یعنی ، جب کوئی شخص اپنی اولاد کا عقیقہ کرنا چاہے تو لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کرے، اگر لڑکے کی طرف سے ایک بکری ذبح کی تب بھی جائز ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی طرف سے ایک ایک مینڈھے کا عقیقہ کیا ،
اور امام اہلسنت امام احمد رضا قادری حنفی متوفی ۱۳۴۰ھ فرماتے ہیں
" پسر ( لڑکا ) کے عقیقہ میں دو جانور افضل ہیں اور ایک بھی کافی ہے "*
(فتاوی_رضویہ ، کتاب الاضحیۃ ، باب العقیقہ ، رقم المسئلۃ: ۳۱۴ ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اور صدر الشریعہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی حنفی متوفی ۱۳۶۷ھ فرماتے ہیں
" لڑکے کے عقیقہ میں دو بکریوں کی جگہ ایک ہی بکری کسی نے کی تو یہ بھی جائزہے ، ایک حدیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہےکہ عقیقہ میں ایک مینڈھا ذبح ہوا "
(بہارشریعت ، عقیقہ کا بیان ، حصہ ۱۵ ، ۳/۳۵۷ ، المدینۃ العلمیۃ
فلہذا زید پر شرعاً کوئی الزام نہیں کیونکہ دو بکرے ذبح کرنا مستحب و افضل تھا جس کے ترک پر کوئی مواخذہ نہیں اور نہ کوئی کراہت
چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا قادری حنفی فرماتے ہیں
مطلقا عذاب و عتاب کچھ نہ ہو۔ یہ مستحب ومندوب وادب ہے "
(فتاوی_رضویہ مترجم ، ۱/۹۰۴)
دوسری جگہ فرماتے ہیں
" ترک مندوب مکروہ نہیں "
(ایضا ص۹۰۳)
ایک جگہ اور فرمایا
مستحب کا ترک مکروہ نہیں ہوتا
(ایضا ص۸۷۷)
یہ تو اصل مسئلہ کا حکم شرعی تھا ، البتہ اگر اللہ تعالیٰ نے وسعت و دولت سے نوازا ہے تو بخل سے کام نہ لینا چاہئے ، اور صاحب ثروت کو استحباب پر عمل کرنا چاہئے کہ مال بچانے کے لالچ سے بچنا اور راہ خدا میں حتی المقدور زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا دنیا و آخرت کی بھلائی کا بہترین ذریعہ ہے اور کار ثواب بھی ہے
چنانچہ اللہ کریم تعالیٰ فرماتاہے
" فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْؕ-وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ "
(القرآن_الکریم ، ۶۴/۱۶)
ترجمہ : تو اللہ سے ڈرو جہاں تک تم سے ہوسکے اور سنو اور حکم مانو اور راہِ خدا میں خرچ کرو یہ تمہاری جانوں کے لیے بہتر ہو گا اور جسے اس کے نفس کے لالچی پن سے بچالیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔
اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ۱۲۵۲ھ فرماتے ہیں
" والنفل، ومنه المندوب يثاب فاعله ولا يسيء تاركه "*
(ردالمحتار ، کتاب الطھارۃ ، مطلب فی السنۃ و تعریفھا ، ۱/۲۱۸ ، دارالکتب العلمیۃ بیروت ،
یعنی ، اور نفل اسی میں سے مستحب بھی ہے اس کا کرنے والا ثواب پائےگا اور چھوڑنے والا گنہگار نہیں ہوگا
والله تعالیٰ اعلم
۱۲ صفر المظفر ۱۴۴۵ ھجری
۳۰ اگست ۲۰۲۳ عیسوی چہارشنبہ
Tags:
عقیقہ کا بیان