مسئلہ:- حنفی کے نکاح میں شافعی گواہان ہوں تو نکاح صحیح ہو جائے گا یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
نکاح صحیح ہوجائے گا اگرچہ گواہ شافعی مالکی یا حنبلی ہوں ،
جیسا کہ محقق جلیل حضور اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں؛
حنفی کا نکاح ہو جائے گا اگرچہ وکیل و گواہ اور قاضی و ولی و زوجہ سب کے سب شافعی یا مالکی یا حنبلی یا مختلف ھوں یعنی ان میں کوئی شافعی کوئی مالکی کوئی حنبلی یوں ہے ان تینوں مذہب والوں کا نکاح صحیح ہے اگرچہ باقی لوگ دوسرے تین مذہب کے ہوں چاروں مذہب والے حقیقی عینی بھائی ہیں ان کی ماں شریعت اور ان کا باپ اسلام طحاوی علی الدر المختار میں ہے
هذه الطائفة الناجيه قد اجتمعت اليوم في مذاهب اربعة وهم لحنفيون والمالكيون وشافعيون الحنبليون رحمهم الله تعالى ومن كان خارجاً عن هذه الاربعة في هذا الزمان فهو من اهل البداعة والنار
نجات پانے والا گروہ چار مذہب حنفی مالکی شافعی حنبلی میں جمع ہے اب جو ان چاروں سے خارج ہے بلکہ مسلمان عورت کے نکاح میں گواہ اگر بد مذہب بھی ہوں مثلا تفصیلی جب دین نکاح میں خلل نہیں ہاں سب گواہ ایسے یہ جن کی ضلالت کفر و ارتداد کو پہونچی ہوئی ہے جیسے وہابی رافضی غیر مقلد قادیانی چکڑالوی تو البتہ نکاح نه ہوگا که زن مسلمه کے نکاح میں وہ مسلمان گواہ شرط ہیں اور اگر مسلمان کسی کتابیه سے نکاح کرے تو وہاں وہ کافروں کا گواہ ہونا بھی بس ہے اور وکیل کا تو مسلمان ہونا بھی کسی حالت میں شرط نه کر خاص حنفی ہو در مختار میں ہے
حضور شاھدین مسلمین لنکاح مسلمۃ ولو فاسقین وصح نکاح مسلم ذمیۃ عند زمیین ولو مخالفین لدینھا بدائع میں ہے تجوز وکالۃ المرتد بأن وکل مسلم مرتد اوکذا لو کان مسلما وقت الوکیل ثم اردتھم علی وکالۃ الاان یلحق بدارالحرب فتطل وکالته " اھ
(فتاویٰ افریقہ صفحہ ۵۵)
واللّٰه سبحانهٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولهٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
Tags:
نکاح کا بیان