بیوی سے کہا اگر تونے نماز چھوڑی تو طلاق نماز قضا ہوگئ تو طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟

مسئلہ :- اگر شوہر اپنی بیوی سے کہے اگر تو نے نماز چھوڑی تو تجھے طلاق اب اگر عورت کی نماز قضا ہو گئ تو طلاق ہوگی یا نہیں؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
اس مسئلے میں علماء کا إختلاف ہے. قول مشہور اور قول اظہر یہ ہے کہ طلاق پڑگئی، کیوں کہ نماز چھوڑنا پالیا گیا. اگرچہ بعد میں وقت نکلنے کے بعد عورت چھوٹی ہوئی نماز کی قضا کرلے. محیط برہانی اور تاتار خانیہ میں ہے :
قال لامرأتہ : إن ترکت صلاۃ فأنت طالق ، أو قال : إن ترکتُ صلاۃ فامرأتي طالق ، فترکت صلاۃ وقضتہا ، أو ترک صلاۃ وقضاہا ، ہل یقع الطلاق ؟ 
اختلف المشایخ رحمهم اللّٰہ تعالیٰ فیہ، بعضہم قالوا : لا یقع الطلاق ، وبہ کان یفتی الشیخ الإمام سیف الدین عبد الرحیم الکرمیني ؛ لأن ترک الصلاۃ أن یترکہا ولا یقضیہا ۔ وبعضہم قالوا : یقع الطلاق ، وبہ کان یفتی القاضي الإمام رکن الإسلام علي السغدي رحمہ اللّٰہ تعالیٰ ، وہو الأشبہ والأظہر ؛ لأن ترک الصلاۃ أن یترکہا عن وقتہا ۔ ألا تری إلی ما ذکر محمد رحمہ اللّٰہ تعالیٰ إذا قضی المتروکۃ! وقال أیضًا : من ترک صلاۃ یوم ولیلۃ ، وقضاہا من الغد ۔ ( المحیط البرہاني ، کتاب الطلاق / الفصل السابع عشر : الأیمان بالطلاق ۵ ؍ ۱۱۰ رقم : ۵۳۲۰ ، الفتاویٰ التاتارخانیۃ / باب الأیمان بالطلاق 
 اور اعلی حضرت اس مسئلہ میں طویل بحث فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ 
در مختار میں ہے:
قال إن تركت الصلوة فطالق فصلتها قضاء طلقت علي الاظهر، 
بیوی کو کہا کہ اگر تونے نماز نماز ترک کی تو تجھے طلاق ہے اب اگر عورت نے نماز قضا کی تو زیادہ واضح قول یہی ہے کہ طلاق ہو جائے گی
(فتاوی رضویہ جلد 13 صفحہ 152 رضا فاؤنڈیشن لاہور
واللہ تعالیٰ اعلم
۱۷ محرم الحرام ۱۴۴۵ ھجری
۵ اگست ۲۰۲۳ عیسوی شنبہ
Previous Post Next Post