عورت نے قسم کے کفارہ کا دو روزہ رکھا پھر حیض آگیا تو ایک روزہ بعد میں رکھے یا پھر سے لگاتار تین؟

مسئلہ :- عورت نے قسم کے کفارہ کے لیے روزہ رکھا دو روزہ ہوا تھا پھر حیض آگیا تو کفارے کا بقیہ ایک روزہ حیض ختم ہونے کے بعد رکھے بعد میں یا پھر سے تین روزے رکھے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب 
پھر سے تین روزے رکھے 
کیونکہ قسم کے کفارہ میں تین روزے لگاتار رکھنے کا حکم ہے یہاں تک کہ عورت کو اگر حیض آگیا تو پہلے کے روزے کا اعتبار نہ ہوگا یعنی اب پاک ہونے کے بعد لگاتار تین روزے رکھے
در مختار ،کتاب الأیمان، اور محیط برہانی میں ہے : 
قال ولو كان الصوم لكفارة اليمين فحاضت فانها تستأنف صومها اذا طهرت لانها تقدر ان تصوم ثلاثة ايام من غير حيض 
 فحاضت فانها تستأنف صومها اذا طهرت لانها تقدر ان تصوم ثلاثة ايام من غير حيض  
وإن كان عند ابتداء صومها قد بقي من طهرها يوم أو يومان جاز صومها فيهما، ثم لم يجز صومها في عشرة، وانقطع التتابع، فإن صوم ثلاثة أيام في كفارة اليمين يجب متابعة، لا وعدد الحيضة اليمين يجب متابعة ن الحيض " اھ
اور بہار شریعت حصہ نہم صفحہ ۳۱۱ میں ہے 
 ایک ساتھ تین روزے نہ رکھے یعنی درمیان میں فاصلہ کردیا تو کفارہ ادا نہ ہوا اگرچہ کسی مجبوری کے سبب ناغہ ہوا ہو یہاں تک کہ عورت کو اگر حیض آگیا تو پہلے کے روزے کا اعتبار نہ ہوگا یعنی اب پاک ہونے کے بعد لگاتار تین روزے رکھے -
والله تعالیٰ اعلم
۱۵ محرم الحرام ۱۴۴۵ ھجری
۳ اگست ۲۰۲۳ عیسوی جمعرات
Previous Post Next Post