شہد کی مکھیوں کی خرید و فروخت کرنا کیسا؟


مسئلہ:- زید کہتا ہے شہد کے مکھیوں کی خریدو فروخت جائز ہے بکر کہتا ہے جائز نہیں خالد کہتا ہے اس میں اختلاف ہے آیا کہ تینوں میں کس کا قول درست ہے ؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
 زید کا قول درست ہے یعنی شہد کی مکھیوں کی خرید و فروخت جائز ہے ، امام محمد رحمۃُ اللہِ تعالیٰ علیہ کے نزدیک شہد کی مکھی کا بیچنا جائز ہے۔ علمائے احناف نے امام محمد رحمۃُ اللہِ تعالیٰ علیہ کے مذہب کو مفتیٰ بہٖ قرار دیا ہے۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے : “ وقال محمد رحمه الله تعالى يجوز إذا كان مجموعا كذا في الحاوي بيع النحل يجوز عند محمد رحمه الله تعالى وعليه الفتوى كذا في الغياثية “ یعنی شہد کی مکھی کی خرید و فروخت کے متعلق امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جب ان کو جمع کر لیا جائے تو جائز ہے اسی طرح حاوی میں ہے کہ شہد کی مکھی کی خرید و فروخت جائز ہے اور اسی پر فتویٰ ہے
ایسا ہی غیاثیہ میں ہے۔ (فتاویٰ ہندیہ ، جلد 3 صفحہ 114)
والله تعالیٰ اعلم
۲۷ محرم الحرام ۱۴۴۵ ھجری
۱۵ اگست ۲۰۲۳ عیسوی سہ شنبہ
Previous Post Next Post