برف سے وضو جائز ہے یا نہیں؟


مسئلہ :-بکر کہتا ہے برف سے وضو جائز ہے زید کہتا ہے برف وضو کے قابل نہیں لہذا برف سے وضو ناجائز ہے دونوں میں کس کا قول درست ہے 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
 فقط برف سے وضو ممکن نہیں مگر برف کے پانی سے وضو کرنا جائز و درست ہے ، 
حضرتِ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں 
" المیاہ التی یجوز التطہیر بھا سبعة میاہ
۱ ماء السماء ۲وماء البحر ۳وماءالنھر ۴ وماء البئر*
*۵/۶ وماء الثلج والبرد ۷ وماء العین "
یعنی جن پانیوں سے پاکیزگی حاصل کرنا جائز ہے وہ سات قسم کے پانی ہیں ۱- آسمان یعنی بارش کا پانی ۲- دریا کا پانی ۳- نہر کا پانی ۵/۶ - برف سے پگھلا ہوا اولوں سے پگھلنے والا پانی ۷- چشمے کا پانی 

 نورلایضاح صفحہ ۱۳ کتاب الطہارۃ المکتبة العصریة بیروت)

یعنی برف سے تو وضو نہیں کیا جاسکتا مگر برف یا اولے کے پانی سے وضو جائز ہے، 
 بحر میں ہے: 
" وبوجودآلة التقويرفى نهر جامد تحته ماء لا يتيمم وقيل يتيمم وفى سفره جمد أو ثلج و معہ آلۃ الذوب لا يتيمم وقيل يتيمم ، والظاھر الاول منھما کمالایخفی
البحر الرائق ، کتاب الطھارۃ ، باب التیمم ، تحت قولہ : او خوف عدو او سبع او عطش او فقد آلۃ ، ۱/۱۵۰ ، مطبوعۃ: شرکۃعلاؤالدین بیروت)
اور حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ
" جس پانی سے وضو جائز ہے اس سے غسل بھی جائز اور جس سے وضو ناجائز غسل بھی ناجائز،
یعنی :مینھ، ندی، نالے، چشمے، سمندر، دریا، کوئیں اور برف ، اولے کے پانی سے وضو جائز ہے۔ 

(بہار شریعت حصہ دوم پانی کا بیان)
لہذا معلوم ہوا کہ برف سے وضو نہیں کر سکتے ہیں، مگر ہاں اس کے پانی سے وضو ضرور جائز ہے، 
والله تعالیٰ اعلم 
۲۸ محرم الحرام ۱۴۴۵ ھجری
۱۶ اگست ۲۰۲۳ عیسوی چہارشنبہ
Previous Post Next Post