مسئلہ :- خالد مریض ہے حالتِ نمازمیں اس کی زبان سے بے اختیار آہ، نکلی تو نماز کا کیا حکم ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں بلا کراہت نماز ہوگئی کیوں کہ مریض کی زبان سے بے اختیار آہ نکلنے سے نماز میں کوئی خرابی نہیں آتی ہے
جیسا کہ در مختار میں ہے
(والأنین والتاؤہ والتافیف والبکاء بصوت) یحصل بہ حروف ( لوجع أو مصیبۃ ) قید للأربعۃ الا لمریض لا یملک نفسہ عن أنین و تاؤہ لأنہ حینئذ کعطاس و سعال و جشاء و تثاؤب و ان حصل حروف للضرورۃ " اھ
جلد دوم صفحہ ۳۷۷ ' ۳۷۸ کتاب الصلاۃ / باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا
وھکذا فتاوی ھندیہ جلد اول صفحہ ۱۰۱ / الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا
اور بہار شریعت میں ہے : مریض کی زبان سے بے اختیار آہ, اوہ نکلی نماز فاسد نہ ہوئی یوہیں چھینک, کھانسی, جماہی, ڈکار میں جتنے حروف مجبورا نکلتے ہیں معاف ہیں-
حصہ سوم صفحہ ٦۰۸
مفسدات نماز کا بیان
والله تعالیٰ اعلم
۱۴ محرم الحرام ۱۴۴۵ ھجری
۲ اگست ۲۰۲۳ عیسوی چہار شنبہ
Tags:
نماز کا بیان