سنی کی لڑکی وہابی ہو گئ تو اپنے باپ کے میراث میں حصہ پائے گی یا نہیں؟

مسئلہ:-خالد سنی صحیح العقیدہ ہے اس کی بہن ہندہ بھی سنی صحیح العقیدہ تھی شادی کے بعد وہابی ہو گئ تو کیا ہندہ کو اس کے والدین کے میراث میں حصہ ملے گا؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
دیوبندی وہابی جن کے عقائد حد کفر تک پہونچ گئے ہوں ، باتفاق علمائے حرمین شریفین ایسے کافر و مرتد ہیں کہ ان کے کفر و عذاب میں شک کرنے والا بھی کافر ہوجائےگا ، کماھو محقق فی حسام الحرمین
فلہذا سنی کی بیٹی اگر شادی کے بعد واقعتاً وہابی ہوجائے تو مرتدہ ہونےکی وجہ سے اپنے سنی باپ کے میراث کی وارث نہیں ہوگی اور اپنے سنی باپ کے ترکہ سے کچھ نہیں پائےگی
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں
" لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَ لَا الْكَافُِرُ الْمُسْلِمَ "
(سنن ابن ماجۃ ،ابواب الفرائض ، باب میراث اھل الاسلام من اھل الشرک ، ۴/۳۱) 
ترجمہ: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہوتاہے،
اور امام ابوبکر رازی جصاص حنفی متوفی ۳۷۰ھ فرماتے ہیں
" ولا میراث لمرتد ولا خلاف فیہ نعلمہ "
(شرح مختصرالطحاوی ، کتاب الفرائض ، ۴/۷۴ ، 
یعنی مرتد کیلئے میراث نہیں ہے اور ہمیں اس مسئلہ میں کسی کا اختلاف معلوم نہیں ،
اور علامہ نظام الدین برہانپوری حنفی متوفی ۱۰۹۲ھ و جماعت علمائے ہند فرماتے ہیں
" المرتد لا یرث من مسلم ولا من مرتد مثلہ کذا فی المحیط "
(فتاوی ہندیہ ، کتاب الفرائض ، الباب السادس فی میراث اھل الکفر ، ومما یتصل بھذا الباب میراث المرتد ، ۴/۵۰۴ ، 
یعنی مرتد نہ تو مسلمان کا وارث ہوتاہے اور نہ اپنے جیسے مرتد کا ، محیط میں ایسا ہی ہے
علامہ سید محمد امین بن عابدین شامی حنفی متوفی ۱۲۵۲ھ فرماتے ہیں
" فالمرتد لایرث احدا اجماعا ، ولیس ذالک لاختلاف الدین لانہ لاملۃ لہ علی ماعرف فی محلہ "
(ردالمحتار ، کتاب الفرائض ، ۱۰/۵۱۱ ، 
یعنی مرتد اجماعی طور پر کسی کا وارث نہیں اور یہ اختلاف دین کی وجہ سے نہیں ہے کیونکہ اس کا تو کوئی دین ہی نہیں،
اور امام اہلسنت امام احمدرضاقادری حنفی متوفی ۱۳۴۰ھ فرماتے ہیں
 مرتد کسی کا وارث نہیں ہوسکتا 
(فتاوی رضویہ ، کتاب الفرائض ، ۲۶/۳۱۸) 
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
۱۰ صفر المظفر ۱۴۴۵ ھجری
۲۸ اگست ۲۰۲۳ عیسوی دوشنبہ
Previous Post Next Post