جس چیز سے وضو ٹوٹتا ہے کیا اُس سے تیمم بھی ٹوٹ جاتا ہے؟

مسئلہ:-کیا یہ درست ہے کہ جن چیزوں سے وضو ٹوٹتا ہے اس سے تیمم بھی ٹوٹ جاتا ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب 
ناقض وضو اور تیمم کے مسائل جداگانہ ہیں یعنی جن چیزوں   سے وُضو ٹوٹتا ہے یا غُسل واجب ہوتا ہے ان سے تیمم بھی جاتا رہے گا اور علاوہ ان کے پانی پر قادر ہونے سے بھی تیمم ٹوٹ جائے گا۔  یوں ہی  کسی نے غُسل اور وُضو دونوں   کے لیے ایک ہی تیمم کیا تھا پھر وُضو توڑنے والی کوئی چیز پائی گئی یا اتنا پانی پایا کہ جس سے صرف وُضو کر سکتا ہے یا بیمار تھا اور اب اتنا تندرست ہو گیا کہ وُضو نقصان نہ کرے گا اور غُسل سے ضرر ہو گا تو صرف وُضو کے حق میں   تیمم جاتا رہا غُسل کے حق میں   باقی ہے۔ (بہارشریعت، حصہ 2 تیمم کا بیان)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ينقض التيمم كل شيء ينقض الوضوء، كذافي ,,الهداية،، ينقضه القدرة على استعمال الماء الكافي الفاضل عن حاجته،كذا في,, بحر الرائق،، (:ج:1،ص:82،کتاب الطھارۃ،الباب الرابع في التيمم)
اور مریض نے غسل کا تیمم کیا تھا اور تندرست ہو گیا کہ غسل سے ضرر نہ پہنچے گا تو تیمم جاتا رہا(بہار شریعت،المرجع السابق) 
فتاویٰ عالمگیری میں ہے: اذا زال المرض المبیح ينقض التيمم ( فتاویٰ عالمگیری،المرجع السابق) واللہ تعالیٰ اعلم۔ 
لہذا معلوم ہوا کہ جن چیزوں سے وضو ٹوٹتا ہے اُس سے تیمم بھی ٹوٹ جاتا ہے البتہ بعض صورتوں میں  ناقض تیمم کے مسائل  ناقض وضو کے مسائل سے الگ ہیں یعنی پانی پر قادر ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے جب کہ  ناقض وضو میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے 
والله تعالیٰ اعلم
۹ صفر المظفر ۱۴۴۵ ھجری
۲۷ اگست ۲۰۲۳ عیسوی یکشنبہ
Previous Post Next Post